تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانے پر بھی وزیراعظم فارغ ہو گا

کپتان حکومت کی جانب سے اپوزیشن کی مجوزہ تحریک عدم اعتماد کو تاخیری حربوں کے ذریعے غیر موثر بنانے کا اس لئے کوئی امکان نہیں کیونکہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ اس موو پر سات روز کے اندر فیصلہ کرنا لازمی ہے ورنہ وزیر اعظم فارغ تصور ہوں گے۔
اپوزیشن الائنس کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا اعلان کئے جانے کے تین ہفتوں بعد بھی مجوزہ تحریک قومی اسمبلی میں پیش نہیں کی جاسکی، تاہم اپوزیشن ذرائع کا دعوی ہے کہ وہ 15 مارچ سے پہلے اسے دائر کر دیں گے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق ایک بار جب قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس موصول ہو جائے تو سپیکر کے پاس سات روز کے اندر اندر اس سارے عمل کو کسی بھی منطقی انجام تک پہنچانے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہواتا۔
عدم اعتماد کا نوٹس موصول ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بھی بلایا جائے تو ایسا تصور ہو گا جیسے عدم اعتماد پر عمل ہو گیا ہے اور وزیرا عظم عہدے سے فارغ تصور ہوں گے۔ حتیٰ کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کی صورت میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں بھی تاخیر نہیں کی جا سکتی۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں کہ سپیکر وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس موصول ہونے کی صورت میں مخصوص مدت کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس نہ طلب کریں، یہ ان کی صوابدید ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 95 بالکل واضح طور پر وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں کارروائی سات دن کے اندر اندر مکمل کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق عدم اعتماد نوٹس پر وصولی کے پہلے تین دن میں ووٹنگ نہیں ہوسکتی، تاہم یہ سارا قضیہ بہرصورت نوٹس ملنے کے بعد سات دن میں مکمل ہونا ضروری ہے، ایسا آئین اور اسمبلی رولز میں لکھا ہے۔ بقول عرفان قادر عدم اعتماد کا نوٹس موصول ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بھی بلایا جائے تو ایسا تصور ہو گا جیسے عدم اعتماد پر عمل ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے آئین کے آرٹیکل 254 کا حوالہ دیا جو کہتا ہے: جب آئین کے مطابق کوئی عمل یا کام کسی خاص مدت کے اندر کرنا ضروری ہے اور اسے اس مدت کے اندر نہیں کیا جاتا ہے تو اس عمل یا چیز کا کرنا صرف اس وجہ سے باطل یا غیر موثر نہیں ہوگا کہ یہ کام اس مدت کے اندر نہیں کیا گیا تھا۔
ریحام کے بعد کپتان کے دوست عون چوہدری بھی کتاب لکھنے لگے
یاد رہے کہ تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں پر مشتمل حزب اختلاف وزیراعظم عمران خان کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے مسند اقتدار سے ہٹانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اپوزیشن کے علاوہ حکومتی جماعت میں بھی وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام یا ’غیر موثر‘ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، اور اس سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیر کو سب سے کار آمد حربہ تصور کیا جا رہا ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کی منشا یہی ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا عمل زیادہ سے زیادہ سات روز میں مکمل ہو، جس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کا بلایا جانا، تحریک کا پیش ہونا، ووٹنگ اور دوسرے تمام متعلقہ کام شامل ہیں۔ انکے مطابق کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد صرف آرٹیکل 95 اور اس کے تحت بننے والے قومی اسمبلی کے طریقہ کار کے قوانین یعنی رولز آف پروسیجر کے سیکشن 37 کے تحت ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 95(1)کے تحت وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم 20 فیصد کے برابر اراکین تحریری نوٹس اسمبلی سیکریٹیریٹ میں جمع کراسکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 95(2) میں لکھا ہے کہ شق (1) میں جس قرارداد کا ذکر ہے، اس پر قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد سے تین دن سے پہلے یا سات دن بعد ووٹنگ نہیں ہو سکے گی۔
جب کہ اسی آرٹیکل کی شق 4 کے مطابق مذکورہ قرار داد کے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہیں گے۔ قومی اسمبلی کے طریقہ کار کے قوانین کی شق 37 وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے طریقہ کار کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نوٹس کی وصولی کے بعد سیکریٹری اسمبلی جلد از جلد اسے اراکین کو ارسال کریں گے، جب کہ اگلے ورکنگ ڈے اسے آرڈر آف دی ڈے میں متعلقہ اراکین کے نام درج کیا جائے گا۔
اس میں مزید درج ہے کہ قرارداد کے پیش ہونے کے بعد سپیکر ایوان کے بزنس کو ذہن میں رکھتے ہوئے تحریک پر بحث کے لیے ایک دن مقرر کر سکتے ہیں۔ طریقہ کار کے قوانین میں بھی تحریک عدم اعتماد کو سیکریٹریٹ میں جمع ہونے کے تین دن بعد اور سات دن کے اندر نمٹانے کا ذکر موجود ہے۔ اسی طرح رولز آف پروسیجر کے سیکنڈ شیڈول میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ایوان میں اوپن بیلٹنگ کے ذریعے ووٹنگ کا طریقہ کار بھی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کے خلاف تحریک ودم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں کیا ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عارف چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک کی کامیابی کی صورت میں وہ اپنے عہدے سے فارغ تصور ہوں گے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ صدر مملکت موجودہ وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں ان کے جانشین کے انتخاب تک ذمہ داریاں انجام دینے کا کہہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عبوری وزیر اعظم اور عبوری حکومت صرف قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد تعینات ہوتے ہیں جبکہ عدم اعتماد کی صورت میں وہی چیف ایگزیکٹیو عارضی طور پر کام جاری رکھتے ہیں۔
پاکستان میں اب تک دو منتخب وزرائے اعظموں کے خلاف تحاریک عدم اعتماد پیش کی جا چکی ہیں تاہم دونوں چیف ایگزیکٹیوز ان کے مخالفین کو شکست دینے میں کامیاب رہے تھے۔ پہلی تحریک عدم اعتماد سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف نومبر 1989 میں پیش کی گئی تھی جو قومی اسمبلی میں صرف 12 ووٹوں سے رد کر دی گئی۔ اسی طرح سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو اقتدار سے ہٹانے کی خاطر حزب اختلاف نے 2006 میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی، لیکن اپوزیشن کو کامیابی نصیب نہ ہو سکی۔
