پی ٹی آئی سے مذاکرات پر نون لیگی قیادت اختلافات کا شکار

پی ٹی آئی سے مذاکرات کے معاملے پر نون لیگ میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں جہاں ایک طرف وزیر اعظم شہباز شریف کے حمایتی اقلیتی رہنما تحریک انصاف سے مذاکرات کو جمہوریت کی مضبوطی کا غماز قرار دے رہے ہیں وہیں دوسری جانب مریم نواز،خواجہ آصف اور طلال چودھری جیسے لیگی رہنما پی ٹی آئی سے مذاکرات کو وقت کے ضیاع کے ساتھ تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ اپنانے والی تحریک انصاف اب کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں رہی۔اس لیے اس کے ساتھ سیاسی نہیں بلکہ سخت ریاستی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ وہی طرزِ عمل ہونا چاہیے جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی جیسےدیگر عناصر کے خلاف اپنایا جاتا ہے، تاکہ آئندہ کسی کو بھی ریاست کے خلاف بیانیہ اپنانے کی جرات نہ ہو۔
مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی سے مذاکرات بارے جہاں نون لیگ میں اختلافات موجود ہیں وہیں حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے بارے یکسو نہیں ہیں اسی لئے 10 دن گزرنے کے باوجود ابھی تک وفاقی حکومت نے اپوزیشن اتحاد ’’ تحریک تحفظ آئین پاکستان‘‘ سے باقاعدہ کوئی رابطہ نہیں کیا کہ مذاکرات کب اور کیسے شروع کیے جائیں۔ مبصرین کے مطابق جہاں ایک طرف حکومت مذاکرات بارے ایک پیج پر نہیں ہے وہیں دوسری جانب تحریک انصاف بھی حکومت سے مذاکرات بارے شدید اختلافات کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر ایک دھڑا مذاکرات کا مخالف اور دوبارہ احتجاجی تحریک کی حکمتِ عملی کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے ۔ پی ٹی آئی چئیرمین جیل میں عمران خان سے ملاقات کیلئے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں تو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور عمران خان کی بہن علیمہ خان مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے کارکنان کو سڑکوں پر لانے کے اعلانات کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب پائی جانے والی یہی داخلی تقسیم مذاکراتی عمل میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کا باعث بن رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی باتیں گزشتہ دو برسوں سے زیرِ بحث ہیں، جو وقتاً فوقتاً زور پکڑتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر مذاکرات کے امکانات پر گفتگو تیز ہو گئی ہے، تاہم ماضی کی طرح اس بار بھی ابہام اور اختلافات نمایاں نظر آتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں ایک دو مواقع پر باضابطہ طور پر مذاکرات کا آغاز بھی ہوا اور دونوں جانب کے رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئیں، مگر نہ تو ان کا کوئی ٹھوس نتیجہ نکل سکا اور نہ ہی اس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ سنجیدگی سے آگے بڑھ سکا۔ اب ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی بات ہو رہی ہے، تاہم صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے اندر بھی تمام رہنما اس عمل کے حامی نہیں، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت چند رہنما مذاکرات کے حق میں سنجیدہ کوششیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف متعدد بار اپوزیشن اور بالخصوص پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ 23 دسمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ حکومت سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اگر پی ٹی آئی سنجیدہ اور جائز بات چیت کے لیے آگے آئے تو مثبت جواب دیا جائے گا، تاہم بلیک میلنگ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم قومی اسمبلی کے فلور سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ برس ہونے والی مذاکراتی نشستیں بھی انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھیں۔ مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی سپیکر کا کہنا تھا کہ ان کے دفتر کے دروازے بات چیت کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ گزشتہ ماہ 10 دسمبر کو ایاز صادق نے انکشاف کیا تھا کہ وزیراعظم اور وہ خود متعدد بار مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں، مگر جواب میں کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے نہیں صرف اور صرف فیلڈ مارشل سے بات کرے گی۔ اسی طرح وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی مذاکرات کے حامی نظر آتے ہیں۔ان کے مطابق 12 جنوری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہے، اگر پی ٹی آئی سنجیدہ تجاویز سپیکر کے دفتر لے آئے تو بامقصد مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کے حق میں نہیں۔ 24 دسمبر کو انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر ملک کو بدنام کیا، اس لیے مذاکرات سے قبل پی ٹی آئی کو اپنے طرزِ عمل پر عالمی سطح پر معافی مانگنا ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج اور فیلڈ مارشل کے خلاف پروپیگنڈا ناقابلِ قبول ہے اور ایسی سوچ کی حامل جماعت کے ساتھ بیٹھنا نا ممکن ہے۔ اسی طرح وزیرِ دفاع خواجہ آصف بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے سخت مخالف دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان اپنی ذات کے سوا کسی اور کے بارے میں نہیں سوچتے، اس لیے مذاکرات میں پیشرفت کی کوئی امید نہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت وقت کا ضیاع ہوگی کیونکہ پارٹی خود اندرونی طور پر مذاکرات اور تصادم کے حامی دھڑوں میں تقسیم ہے۔اسی طرح وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی 28 دسمبر کو واضح کیا تھا کہ پیشگی شرائط پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور اگر پی ٹی آئی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے تو کر کے دیکھ لے۔
پنجاب میں PTI کے لیے آنے والے دن اور بھی مشکل کیوں؟
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے بیانات میں تضاد نمایاں نظر آتا ہے۔ ایک جانب وہ پانچ اہم رہنماؤں کے مل بیٹھ کر مذاکرات کو آگے بڑھانے کی تجویز دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کا مؤقف ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں مذاکرات کی خواہشمند ہیں، مگر اس عمل میں اصل رکاوٹ عمران خان ہیں۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق عمران خان مذاکرات کے بجائے تصادم اور انتشار کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، حالانکہ جمہوری نظام کو آگے بڑھانے کا واحد راستہ بامعنی مذاکرات ہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریکِ انصاف دونوں جانب اندرونی اختلافات، باہمی عدم اعتماد اور واضح حکمتِ عملی کے فقدان کے باعث مذاکرات کا عمل تاحال غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ موجودہ حالات میں مستقبل قریب میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی مؤثر اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل کے آغاز کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔
