عمران کے بیٹوں کے پاکستان آنے پر لیگی رہنما متضاد بیانیے کا شکار

عمران خان کے دونوں بیٹوں کو پاکستان پہنچ کر حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کی اجازت دینے کے معاملے پر نون لیگی رہنما اور وزراء کنفیوژن کا شکار ہیں اور متضاد بیانات دے رہے ہیں۔
عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان نے پہلی بار مئی میں اپنے والد کی قید پر کھل کر آواز اٹھائی تھی۔ حال ہی میں عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے دونوں بیٹے پاکستان آکر تحریک انصاف کی مجوزہ احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے۔ خیال رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے توشہ خانہ کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس سمیت 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مزید مقدمات زیرِ التوا ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ابھی تک حکومت نے اس پر کوئی باضابطہ مؤقف نہیں دیا، لیکن میری ذاتی رائے میں انہیں آنے دیا جائے اور پاکستان آ کر اپنی سرگرمیاں کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیٹے ہمیشہ بیرونِ ملک رہے ہیں، اس لیے وہ جانتے ہوں گے کہ احتجاج کیسے کیا جاتا ہے اور اس کی کیا حدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے، اگر وہ اپنے والد کی رہائی کے لیے تحریک چلانا چاہتے ہیں تو ضرور چلائیں۔
تاہم، ساتھ ہی انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر انہوں نے قانون توڑا تو گرفتاری بھی ہو سکتی ہے، اگر وہ یہاں آ کر قانون کی حدود پار کریں گے تو انہیں معلوم ہے کہ قانون اپنا راستہ لے گا۔ ادھر وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اس معاملے ہر کہا کہ آئین کا آرٹیکل 16 صرف پاکستانی شہریوں کو اجتماع کی اجازت دیتا ہے، غیر ملکیوں کو نہیں۔ آرٹیکل 16 کے مطابق ہر شہری کو پُرامن اور بغیر ہتھیار کے اجتماع کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویزا مل جائے تو ویزہ شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں ویزا منسوخ بھی ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی وزارت داخلہ کو دیکھنا ہوگا کہ آیا عمران کے بیٹوں نے ویزا درخواست دی ہے یا ان کے پاس اوورسیز پاکستانی کا شناختی کارڈ ہے یا نہیں۔ عقیل ملک نے واضح کیا کہ دونوں بھائی چونکہ برطانوی شہری ہیں، اس لیے قانونی طور پر وہ پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔
ادھر وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر دونوں بھائی کسی پرتشدد تحریک کی قیادت کریں گے تو انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ’عمران کے بچوں کو پاکستان آنا چاہیے لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ یہ رسک نہیں لیں گے‘۔
مظہر عباس کا عمران کو جیل سے نکال کر گیسٹ ہاؤس شفٹ کرنے کا مطالبہ
عرفان صدیقی نے معاملے کو زیادہ سنگین نہ سمجھتے ہوئے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کے بچے پاکستان آئیں گے تو کوئی طوفان نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان کے ماحول میں کبھی نہیں رہے، انہیں کراچی کی گرمی میں چھوڑ دو تو پگھل جائیں گے اور وہ اردو بھی شاید ٹھیک سے نہیں بول سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی اپنی سیاست ہمیشہ خاندانی سیاست کے خلاف رہی ہے اور یہ قدم عمران خان کی اپنی کہی ہوئی بات کے خلاف ہے۔
ادھر عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر ان کے بیٹوں نے پاکستان جا کر ان سے ملنے کی کوشش کی تو انہیں بھی گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ شاید حکومتی دھمکیوں کے بعد جمائمہ خان اپنے بچوں کو پاکستانی کی اجازت نہ دیں۔
