کیا نواز شریف کا عوام پر وفاداری نہ نبھانے کا الزام درست ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے عوام پر مشکل وقت میں وفاداری نہ نبھانے اور انہیں تنہا چھوڑ دینے کا الزام سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا موقف حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ اس کے برخلاف ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر چار دہائیوں پر پھیلے سیاسی کیرئیر کے باوجود میاں صاحب زمینی حقائق کا اِدراک نہیں کر پائے تو اس میں قصور عوام کا نہیں بلکہ ان کا اپنا ہے۔
روزنامہ جنگ کےلیے اپنے تازہ تجزیے میں بلال غوری کہتے ہیں کہ لاہور میں مسلم لیگ (ن)کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ میں دل کی بات کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے گلہ قوم سے بھی ہے۔ ایک وزیراعظم کو جھوٹے کیس میں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں فارغ کردیا گیا اور قوم خاموش بیٹھی رہی۔اس سے پہلے جب نومبر2007ء میں نوازشریف جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس لوٹے تو تب بھی انہوں نے یہ شکوہ کیا تھا کہ آپ لوگ کہتے تھے ’’میاں صاحب قدم بڑھائو، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘مگر جب میں نے قدم بڑھانے کے بعد پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ دراصل میاں صاحب خود ایک جزوقتی انقلابی ہیں، ان کی سیاست کو سمجھنا ہم جیسے قلمی مزدوروں کے بس کی بات نہیں لیکن چونکہ انہوں نے حالِ دل بیان کیا ہے تو عوام کا مقدمہ بیان کرنا ضروری ہے ۔بیشتر سیاستدانوں کی طرح نوازشریف بھی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آئے مگر جب انہوں نے ’’ڈکٹیشن‘‘ لینے سے انکار کردیا تو عوام نے انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا ۔دو تہائی اکثریت سے دوسری بار سربراہ حکومت بنایا۔ اس دوران آپ نے بحریہ کے کمانڈر انچیف کو گھر بھیجا ،صدر مملکت کی چھٹی کروائی ،چیف جسٹس کو رسوا ہو کر سبکدوش ہونا پڑا،آرمی چیف سے استعفیٰ لے لیا گیا ،ایٹمی دھماکوں پر امریکہ کا دبائو آیا مگر قوم آپ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہی ۔آپ نے قرض اُتارو ملک سنوارو مہم کا اعلان کیا تو لوگوں نے دل کھول کر عطیات دیئے۔مگر آپ نے چپکے سے ـ’’ڈکٹیشن ـ‘‘لینا شروع کردی۔کارگل کی ناکام مہم جوئی کے بعد توقعات تو یہ تھیں کہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے گا اور جنرل پرویز مشرف کو اپنے کئے کی سزا ملے گی مگر آپ کے والد گرامی نے اسے اپنا چوتھا بیٹا بنالیا ۔آپ پرویز مشرف اور ان کی اہلیہ صہبا کو اپنے ساتھ عمرہ کرنے لے گئے ۔انہیں احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعینات کر دیا گیا۔کہتے ہیں جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے وہ اپنے منہ پر مار لینا چاہئے مگر آپ نے 12 اکتوبر 1999 کو نجانے کیا سوچ کر مکا بازی کا فیصلہ کیا اور پھر منہ کی کھائی مگر عوام نے پھر بھی وفاداری کی لاج نبھائی۔
پیپلزپارٹی کا ن لیگ سے ڈومور کا مطالبہ
بلال غوری نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ نے جو درباری اپنے گرد جمع کئے تھے وہ بیشک ساتھ چھوڑ گئے مگر عوام کی اکثریت آپ کے ساتھ کھڑی رہی ۔ڈکٹیٹر کے غیر قانونی اقتدار کو چیلنج کرنے والوں نے اس گستاخی کی بہت بھاری قیمت ادا کی ۔مگر جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو قائد انقلاب حاکم وقت سے ڈیل کرکے جدہ کے سرور پیلس پہنچ چکے تھے۔اس کج ادائی اور بے وفائی کے باوجود دیوانوں نے آپ کا ساتھ نہ چھوڑا۔جنرل پرویز مشرف کس رعونت کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ نوازشریف اور بینظیر بھٹو قصہ پارینہ ہوچکے ،ان کی سیاست ختم ،اب وہ کبھی پاکستان واپس نہیں آسکتے لیکن یہ عوام کی ہی طاقت تھی کہ آپ کی جلاوطنی ختم ہوئی ،پاکستان واپسی پر فقید المثال استقبال ہوا۔مسلم لیگ(ن) سب سے بڑے صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی ۔2013ء میں عام انتخابات ہوئے تو نہ صرف پنجاب بلکہ وفاق اور بلوچستان میں بھی آپ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ ملا۔آپ کے پاس دو راستے تھے ،مزاحمت یا مفاہمت ۔یا تو آپ سب کچھ فراموش کرکے آگے بڑھتے یا پھر نتائج کی پروا کئے بغیر آئین توڑنے والوں کو نشان عبرت بنادیتے لیکن آپ نے آدھا تیتر آدھا بٹیر کی پالیسی اختیار کی ۔جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ تو درج ہوا مگر پھر اقتدار بچانے کیلئےاسے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی گئی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار سے تو محروم ہوئے ہی،عزت سادات بھی گئی۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ لہازا اگر چالیس برس پر محیط سیاست کے باوجود آپ زمینی حقائق کا اِدراک نہیں کرپائے تو اس میں عوام کا کیا قصور ہے؟اگر آپ محلاتی سازشوں کا اِدراک نہیں کیا گیا، عدلیہ کا اونٹ پارلیمنٹ کے خیمے میں داخل ہونے دیا گیا تو عوام سے کیسا گلہ ؟آپ نے جب ’’مجھے کیوں نہ نکالا‘‘کی صدا بلند کی’’ووٹ کا عزت دو ‘‘کا نعرہ لگایا تو کیا عوام نے آپ کا ساتھ نہیں دیا؟لیکن آپ اس مہم جوئی کی آڑ میں سودے بازی کی کوشش کرتے رہے ۔آپ نے سمسٹر انقلابی بننے کا فیصلہ کیا۔جب دل چاہا بریک لے لی ۔کچھ وعدے کئے جاتے ،یقین دہانیاں ہوتیں تو آپ خاموش ہوجاتے۔اس دوران آپ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئےچابی والے کھلونے بن گئے۔غیر سیاسی قوتوں سے ہاتھ ملالیا ۔جس کے سبب بیمار ہوئے تھے ،اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے لگے۔وہی بیساکھیاں جن کے طعنے آپ اپنے سیاسی مخالفین کو دیا کرتے تھے ،انہی کے سہارے آپ نے حکومت گرائی اور آپکےبھائی جناب شہبازشریف وزیراعظم بن گئے۔پی ڈی ایم کے اس دورِ حکومت میں کیا کچھ نہیں ہوا؟اگر میں کارہائے نمایاں گنوانے بیٹھوں تو یہ صفحات کم پڑ جائیں۔انہی خدمات کے عوض آپ کی جماعت کو پھر سے حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا گیا۔
بلال غوری کے بقول عوام کا خیال تھا کہ میاں نوازشریف سیاستدان کے بجائے مدبراورلیڈر بن کر سوچیں گے ،اس لولی لنگڑی حکومت کو ٹھوکر مار دیں گے اور ڈکٹیشن نہیں لیں گے مگر آپ نے رسوائی اور جگ ہنسائی سمیٹنے کے باوجود انکار نہ کیا۔بلاشبہ کسی بھی سیاسی جماعت کی تگ و تاز کا مرکز و محور اقتدار ہی ہوا کرتا ہے لیکن کس قیمت پر ،یہ بات آپ سے بہتر کون جانتا ہے۔ بلال نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میاں صاحب !اب آپ ہی بتائیں ،عوام وفادار نہیں یا آپ دلدار نہیں؟
