دفاعی بجٹ میں ایک بار پھر اضافہ، بوجھ غریب عوام پر منتقل

وفاقی حکومت نے مالی سال 25-2024 میں مسلح افواج کے لیے دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد کا نمایاں اضافہ کرتے ہوئے 21 کھرب 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس کا سارا بوجھ پاکستانی عوام اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائیں گے۔ یہ وہی مظلوم عوام ہیں جنہیں پاکستان کو نیوکلیئر پاور بنانے کی خوشخبری دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اب ان پر روایتی اسلحے اور فوج کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ ایک جانب پاکستان مسلسل اپنے نیوکلیئر پروگرام پر کھربوں خرچ رہا ہے اور دوسری جانب مسلح افواج اور روایتی اسلحے پر بھی اربوں روپیہ خرچہ جا رہا ہے۔ ماضی کی طرح اب بھی عوامی فلاح کے لیے سوشل سیکٹر ڈیویلپمنٹ پر خرچ بڑھانے کی بجائے سب سے زیادہ فوکس دفاع پر کیا جا رہا ہے جس کا بوجھ ٹیکسوں کے ذریعے عام آدمی پر ڈال دیا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک جانب جہاں انڈیا اور پاکستان میں گزشتہ دس برس میں جوہری بموں کی تعداد دُگنی ہو گئی ہے وہیں ان دس سالوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح بھی دوگنی چوگنی ہو گئی ہے۔ لیکن عوام کو یہی خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں پاکستان نے انڈیا سے زیادہ جوہری بم بنائے ہیں۔ اب بھلا کوئی پوچھے کہ غربت اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام ان بموں کا اچار ڈالیں گے یا انہیں ابال کر کھائیں گے۔ دنیا میں ہتھیاروں کی صورتحال اور عالمی سلامتی کا تجزیہ کرنے والے سویڈین کے موقر ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی مجموعی تعدار میں کمی آئی ہے لیکن جنوبی ایشیا میں اس میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ پاکستان اور بھارت میں بنائے جانے والے بم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2010 میں انڈیا کے پاس 60 سے 70 کی تعداد میں جوہری بم تھے۔ پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 60 بم تھے لیکن 2020 تک دونوں ملکوں نے اپنے جوہری بموں کی تعداد دگنی کر لی۔ اس دوران دونوں ممالک میں غربت کی شرح بھی دگنی ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال میں مسلح افواج کے لیے مختص رقم جی ڈی پی کا 1.7 فیصد ہے، پاکستان کے دفاعی اخراجات میں یہ نمایاں اضافہ 6 سالوں میں دوسرا سب سے بڑا اضافہ ہے، جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے اپنے 18-2023 کے آخری سال میں 18 فیصد اضافے کیا تھا، پچھلے سال کے 15 فیصد اضافے کے بعد یہ مسلح افواج کے لیے بلند فنڈنگ ​​کا مسلسل دوسرا سال بھی ہے، جو روایتی طور پر 11 فیصد سالانہ اضافے سے ہٹنے کا عندیہ ہے، یہ رجحان گزشتہ دہائی میں دیکھا گیا۔

حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ مسلح افواج نے گزشتہ سال کے مختص کیے گئے 18 کھرب روپے سے قدرے تجاوز کیا، اور 18 کھرب 30 ارب روپے خرچ ہوئے۔ تاہم مختص رقم ملک کے حقیقی فوجی اخراجات کی ایک نامکمل تصویر پیش کرتی ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کے لیے مختص 662 ارب روپے کی رقم مسلح افواج کے لیے مختص کے تقریباً 31 فیصد کے برابر ہے، دفاعی بجٹ سے نہیں، بلکہ حکومت کے جاری اخراجات سے نکالی جائے گی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں نیوکلئیر ہتھیاروں اور میزائل پروگراموں کے لیے بڑے فوجی حصول اور فنڈنگ ​​کی مالی اعانت الگ الگ چینلز کے ذریعے کی جاتی ہے، جو کلاسیفائیڈ بجٹ کے تحت چھپائی جاتی ہے، اس وجہ سے فوجی اخراجات کی اصل رقم غیر واضح ہے۔ تینوں سروسز یعنی آرمی، نیوی اور ایئر فورس کا حصہ سال 2019 سے کافی یکساں رہا ہے، جس میں آرمی کو 47.5 فیصد، پاکستان ایئر فورس کو 21.3 فیصد، نیوی کو 10.8 فیصد اور انٹر سروسز آرگنائزیشنز کے لیے 20.3 فیصد مختص کیا گیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ رواں سال کے بجٹ میں ایک منفرد نمونہ پیش کیا گیا، اور آرمی، ایئر فورس، نیوی اور انٹر سروسز آرگنائزیشنز کے لیے مختص رقم میں 22.3 فیصد کا مساوی فیصد اضافہ ہوا۔ مختص رقم کو فعال طور پر چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں ’ملازمین سے متعلقہ اخراجات یعنی سروس مین کی تنخواہوں اور الاؤنس کے لیے رقم‘، ’آپریٹنگ اخراجات یعنی ٹرانسپورٹیشن کی لاگت، ایندھن، راشن، میڈیکل اخراجات، ٹریننگ و دیگر ضروری خدمات‘، فزیکل اثاثے یعنی اسلحہ و گولہ باورد و دیگر ساز و سامان کی خریداری اور ’سول ورکس یعنی موجودہ بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھنے اور نئے تعمیراتی منصوبوں کے لیے رقم‘ شامل ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ کی چینی شہریوں کے سکیورٹی پلان پر عمل درآمد کی ہدایت

مالی سال 25-2024 کے دفاعی بجٹ میں سب سے زیادہ اضافہ سول ورکس کیٹیگری میں کیا گیا، جس کے لیے 25 فیصد اضافے کے بعد 244 ارب 80 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، اس کے بعد فزیکل اثاثہ جات کے لیے 548 ارب 60 مختص کیے گئے ہیں، یہ 18.8 فیصد اضافہ ہے، جبکہ آپریٹنگ اخراجات کے لیے 15.6 فیصد اضافے کے بعد 513 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اضافے کے باوجود ملازمین سے متعلقہ اخراجات مسلح افواج کے بجٹ کا سب سے بڑا یعنی 39 فیصد حصہ ہے، فزیکل اثاثے اور آپریٹنگ اخراجات کے لیے 25.8 فیصد اور 25 فیصد رقم خرچ ہوگی، جبکہ سول ورکس کا دفاعی بجٹ میں حصہ 11.5 فیصد ہے، یہ قابل ذکر ہے کہ اگرچہ فزیکل اثاثوں اور سول ورکس کے لیے مختص کیے گئے تناسب میں گزشتہ برسوں کے دوران تھوڑا سا فرق آیا ہے، لیکن ملازمین سے متعلقہ اخراجات اور آپریٹنگ اخراجات کے شیئرز میں مسلسل اضافہ کا رجحان دکھایا گیا ہے۔

Back to top button