کیا نواز شریف پارٹی صدر بن کر مزاحمتی بیانیہ اپنا پائیں گے

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی قیادت عملا دوبارہ نواز شریف کے ہاتھ میں واپس جا رہی ہے۔شہباز شریف استعفی دے کر پارٹی صدارت سے الگ ہوچکے ہیں۔تاہم پارٹی کے اندر ابھی کسی کو نہیں پتا کہ ’نئی پارٹی‘ میں شہباز شریف کا رول کیا ہوگا۔

ملک کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں اس ساری صورت حالی کی تعبیر ایسے کی جا رہی ہے کہ جیسے شہباز شریف کو سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے اندر اب بہت کچھ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اور اس تبدیلی میں مریم نواز کا ابھر کر پارٹی میں اہم عہدوں پر آنا اور پھر وزیر اعلی پنجاب بننا اس کی ایک کڑی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف اپنی سیاست کو اب اپنی بیٹی کے لینز سے دیکھ رہے ہیں۔ اور پارٹی کے اندر بھی سیاست اب ایسا رخ اختیار کرے گی جس میں مریم نواز مزید طاقتور ہوں گی۔

مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن میں جہاں نواز شریف پارٹی صدر بننے جا رہے ہیں وہیں پارٹی کے آئین میں کچھ تبدیلیاں بھی کی جا رہی ہیں جس سے صدر کا عہدہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوجائے گا۔ اور صدر کے اختیارات میں اضافہ ہو گا۔‘اگر نواز شریف صدر بننے کے بعد پارٹی کے اندر لامتناہی اختیار حاصل کر لیں گے تو پھر وہ باقی عہدوں پر نامزدگیاں کرنے کے مجاز ہوں گے۔

احمد فرہاد بازیابی کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا

 

مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ تنظیمی منصب سبنھالنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر کی حیثیت سے میاں نواز شریف آج اپنی تقریر میں مفاہمت کا بیانیہ پیش کرتے ہیں یا مزاحمت کا، عوامی مقبولیت کا درجہ حاصل کرتے ہیں یا قبولیت کا آسان رستہ اختیار کرتے ہیں اس حوالے سے ان کی تقریر غیر معمولی طور پر اہم ہوگی جس پر سیاسی اور غیر سیاسی تمام حلقوں کی نظریں اور بھرپور توجہ ہوگی۔

مبصرین کے بقول وزیراعظم کی حیثیت سے میاں نواز شریف نے 28 مئی1998 کو بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تھا، کیا آج28 مئی کو وہ کوئی بڑا سیاسی دھماکہ کرسکتے ہیں خود مسلم لیگ (ن) کے بعض حلقے یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ نواز شریف مریم نواز کو پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے منصب کو مضبوط کرنے کیلئے اپنی تنظیمی طاقت کو استعمال کرینگے لیکن اس مقصد کیلئے وہ سمجھوتوں پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق اگر میاں نواز شریف کے بیانیے اور مزاحمتی سیاست سے مریم نواز کے منصب کو سیاسی ٹھیس نہ پہنچی تو وہ تیزی سے اگلی منزل کی طرف گامزن ہوسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کے اجلاس میں آج 28 مئی کو رسمی کارروائی کے بعد 3مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف کو پارٹی کا صدر منتخب کرلیا جائیگا۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہو گا کہ نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے ہٹائے جانے کے بعد دوبارہ اپنا تنظیمی منصب سنبھال رہے ہیں۔ اس سے قبل پرویز مشرف کے آمرانہ دور حکومت میں بھی ان کیلئے ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے تھے کہ انہیں اپنی اس تنظیمی ذمہ داری سے الگ ہونا پڑا تاہم 2010ء میں وہ دوبارہ پارٹی کے صدر منتخب کرلئے گئے تھے۔

واضح رہے کہ نون لیگ کے حالیہ صدارتی انتخابات کے لئے پارٹی کے جنرل کونسل کے اجلاس میں نواز شریف کو صدر منتخب کرنے کی تاریخ میں دو مرتبہ تبدیلی کی گئی تھی اور یہ فیصلہ خود میاں نواز شریف کی تجویز پر 28 مئی کو یوم تکبیر کے موقع پر کرنے کیلئے اتفاق رائے سے ہوا تھا کیونکہ وزیر اعظم کی حیثیت سے میاں نواز شریف نے پاکستان کی تاریخ کا بھی ایک اہم فیصلہ کیا تھا جو بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سپر پاور کی ترغیبات اور دیگر ممالک کے دبائو کے باوجود 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر 5دھماکے کر کے دیا تھا جسے یوم تکبیر کے نام سےموسوم کیا گیا اس طرح پاکستان دنیا کا واحد جوہری طاقت والا پہلا مسلم ملک بنا۔ دوسری جانب آج ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کی سیاسی صورتحال جو کسی مثبت اقدام کیلئے فیصلہ کن دوراہے پر کھڑی ہے خود میاں نوازشریف بھی فیصلے کے اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ انہوں نے اپنی نئی ذمہ داریوں کے حوالے سے کس راستے کا انتخاب کرنا ہے۔ مفاہمت یا مزاحمت کا قبولیت یا مقبولیت کا۔۔ اس حوالے سے آج جنرل کونسل کہ اجلاس میں ان کی تقریر نا صرف غیر معمولی طور پر اہم ہو گی بلکہ کئی حوالوں کہ تناظر میں فیصلہ کن بھی ہو سکتی ہے اور یقینی طور پر مسلم لیگی کارکنوں رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازوں اور صورتحال کے پیش نظر اپنے اختیارات کی طاقت سے فیصلے تبدیل کرنے والے حلقوں کی نگاہیں اور توجہ بھی میاں نوازشریف کی تقریر پر ہو گی۔

Back to top button