کیا نوازشریف وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی تیاری کررہے ہیں؟

مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے فوری بعد حکومتی معاملات اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دئیے ہیں جہاں ایک طرف وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سمیت وفاقی وزراء کی طلبی ہو رہی ہے وہیں دوسری جانب وفاقی و صوبائی بیوروکریسی کی طرف سے بھی مختلف امور بارے نواز شریف کو بریفنگزدینے کا سلسلہ جاری ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ نواز شریف نے عملی طور پر سپر پرائم منسٹر بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حالانکہ نواز شریف جب مشرف دور میں جلاوطنی ختم کرکے پاکستان پہنچے تھے تو انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی اس وجہ سے ہو جاتی ہے کیونکہ وہ وزیراعظم کے اوپر کسی سُپر پرائم منسٹر کو نہیں مانتے۔ غالباً اس وقت ان کا اشارہ فوج کے سربراہ کی طرف تھا۔
تاہم اب نواز شریف پارٹی صدارت کا عہدہ دیے جانے کے بعد حکومتی معاملات میں متحرک نظر آتے ہیں۔ جہاں عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد انھوں نے وزیر اعظم اور وزیر اعظم سمیت وفاقی وزراء کو طلب کر کے بجٹ تجاویز بارے تبادلہ خیال کیا بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف مہیا کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے اور ہر طرح کی کوشش کی جائے گی کہ عام لوگوں پر بجٹ کا بوجھ کم سے کم پڑے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے نواز شریف پنجاب حکومت کے دو اجلاسوں میں خود شریک ہوئے تھے۔ تاہم وفاقی حکومت کے معاملات کو انہوں کبھی اسی طرح واضح طور پر نہیں دیکھا تھا۔
ایسے میں سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایک پارٹی صدر حکومتی معاملات براہ راست چلا سکتا ہے؟
آئینی ماہر ین کے مطابق اس بات کے دو پہلو ہیں ’ایک یہ ہے وزیراعظم اور وزرا چونکہ خود بھی سیاسی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں اور اگر تو ایک سیاسی اجلاس ہو جس میں سیاسی فیصلے کرنے ہوں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘’لیکن اہم بات یہ ہے کہ اجلاس کی نوعیت حکومتی معاملات چلانے کی ہو اور اس میں وفاقی سیکریٹریز بھی بیٹھے ہوں اور صوبائی۔ تو یہ صورت حال مختلف ہے کیونکہ ایسے اجلاس میں قانونی سقم ضرور ہے ۔‘

وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کےلیے مقرر

پاکستانی آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد پارٹی سربراہ کے اختیارات کو خاصا مضبوط کیا گیا ہے، خاص طور پر اس کی ہدایات کے برعکس اسمبلی کے اندر ووٹنگ کے عمل کا حصہ بننے سے اراکین اسمبلی نااہل بھی ہو سکتے ہیں۔
دوسری طرف سینیئر قانون دان حامد خان کہتے ہیں کہ ’آئین پارٹی سربراہ کے حوالے سے واضح ہے۔ اور یہ درست بات ہے کہ 18ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ سیاسی اختیار ہیں۔ ان اختیارات کا تعلق اسمبلی کے فلور کی حد تک ہے۔ حکومتی معاملات دوسرا معاملہ ہے۔ حکومتی معاملات پرائیویٹ پارٹی افئیر نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر کون پوچھتا ہے۔‘
تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ ’نواز شریف خود میں قومی اسمبلی کے رکن ہیں، حکومت کا حصہ ہیں اور ایک پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ یہ ایک غیرضروری بحث ہے کہ وہ وفاقی اور صوبائی حکام سے سرکاری امور بارے کیوں بازپرس کر رہے ہیں اور وہ حکام کو عوامی ریلیف بارے ہدایات کیوں جاری کر رہے ہیں۔ جبکہ نواز شریف کے سپر وزیر اعظم بننے کی باتیں محض مخالفین کی ذہنی اختراعات ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف تین بار کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں جو تجربہ ان کے پاس ہے، وہ اور کسی کے پاس نہیں ہے۔ نواز شریف نون لیگ کے صدر ہیں اس لئے ان کی زیر صدارت ہونے والے سرکاری اجلاس مکمل طور پر قانونی ہیں۔‘

Back to top button