جج یا جرنیل پاکستانی عوام کا مسیحا کیوں نہیں بن سکتا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بگڑتے ہوئے حالات کی ذمہ دار وہ اجتماعی غلطی ہے جو 24 کروڑ عوام 1947 سے کرتے آ رہے ہیں۔ وہ غلطی یہ ہے کہ عوام کبھی تو کسی جرنیل کو، کبھی کسی جج کو اور کبھی کسی سیاستدان کو مسیحا بنا لیتے ہیں اور پھر اسی سے توقع لگا لیتے ہیں کہ وہ ملک کا نظام بدل کر انقلاب لے آئے گا، لیکن آج تک ہم نے جتنے بھی لوگوں کو مسیحا کا درجہ دیا ہے، وہ سب ناکام ہوئے یا ناکام کردیئے گئے، چنانچہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے دکھوں کا علاج کسی مسیحا کے پاس نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی میں ہے، دوسری جانب عوام اب بھی مسیحا کی تلاش میں ہیں، بجائے کہ نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کریں۔

اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ امریکہ کی تاریخ دیکھ لیں، وہاں پچھلے سو سال سے کوئی مسیحا نہیں آیا جونیئر بش جیسے عام سمجھ بوجھ کے لوگ بھی صدر بن کر ملک کو اچھی طرح چلا لیتے ہیں کیونکہ امریکہ کو مسیحا نہیں نظام چلاتا ہے۔ برطانیہ میں چرچل کے بعد کون سا بڑا سیاست دان آیا ہے جو مسیحا یا ہیرو کا درجہ رکھتا ہو لیکن ان کا نظام بہترین ہے اور آئے دن اس میں مزید نئی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں جن سے عوامی فلاح کا راستہ اورزیادہ ہموار ہوتا ہے۔فرانس میں ڈیگال کے بعد کون سا ہیرو یا مدبر اقتدا رمیں آیا ہے لیکن ان کا نظام بہتر سے بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ اور تو اور بھارت میں جواہر لعل نہرو کے بعد کون سا ویژنری یا مسیحا آیا جو انقلاب لایا ہو۔ من موہن سنگھ اور مودی نے معاشی نظام میں تبدیلیاں کر کے ملک کو چلایا اور بہتر ہے۔ ان مثالوں سے سبق ملتا ہے کہ ہم مسیحا کے انتظار کو چھوڑیں اور اپنے نظام کو بہتر کرنے کیلئے اکٹھے ہوں۔

وزیراعظم کی چینی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ سے ملاقات،سرمایہ کاری پرتبادلہ خیال

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ یاد کریں ہم نے عدلیہ میں سے ایک مسیحا افتخار چودھری کی شکل میں ڈھونڈا تھا۔ عوام کو توقع تھی کہ افتخار چودھری بحال ہوں گے تو ریاست ماں جیسی ہو جائے گی مگر نتیجہ کیا نکلا کہ وہ جب عوامی دبائو کے ذریعے بحال ہوئے تو انہوں نے عدلیہ میں اصلاحات کی بجائے ذاتی مفادات اور تعصب کا کھیل شروع کردیا اور سیاست دانوں کی ماں بہن ایک کر دی۔ موصوف نے ریاست کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی، صدر اور وزیر اعظم کو بے بس کردیا، افتخار چویدری نے جنرل مشرف کے ہاتھوں برطرف ہونے والے ججوں کو بحال کرنے والے منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل کر کے گھر بھیج دیا اور مرضی سے آئین کی تشریح شروع کردی۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ آج بھی کچھ جج حضرات افتخار چوہدری کے راستے پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسری جانب اپوزیشن کبھی عوامی انقلاب کی توقع لگاتی ہے اور کبھی بغاوت کے گرد سازشی تانا بانا بنتی ہے۔ یہ سارے راستے ہم آزما چکے ہیں، جن کا نتیجہ ہمیشہ منفی نکلتا ہے، ہماری جمہوریت اور پارلیمانی نظام مزید کمزور ہو جاتا ہے، سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کےگرد گھومنی چاہیے، آئین کی حکمرانی ہو اور پارلیمان کے ذریعے عوامی فلاح کو مدنظر رکھ کر دن رات قانون سازی کی جائے، عدلیہ آئین کی من مانی تشریح کی بجائے عوامی حقوق اور عوامی فلاح کو سامنے رکھے، کوئی جج مسیحا یا ہیرو بننے کی کوشش نہ کرے، وہ مزید کہتے ہیں کہ ہم نے ججوں کی طرح جرنیلوں سے بھی جھوٹی امیدیں وابستہ کیں۔ ایوب خان کا مارشل لا لگا تو اکثریت کاخیال تھا اب انقلاب آ جائے گا، مگر اس مسیحا نے شخصی اقتدار اور آمریت کا راستہ اپنایا۔ ایوب نے مشرقی پاکستان کے عوام کی محرومیوں کا مداوا کرنے کی بجائے ان کا اور بھی استحصال شروع کر دیا۔ پھر اس نے قائد اعظمؒ کی بہن فاطمہ جناح کو دھاندلی کر کے صدارتی الیکشن بھی ہرا دیا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اسکے بعد جنرل ضیاءالحق اسلامی مسیحا بن کر سامنے آیا۔ اس نے مذہبی انتہا پسندی اور سیاسی فاشزم کو فروغ دیا۔ ضیا کی وجہ سے آج بھی مسئلہ افغانستان ہمارے گلے کا ڈھول بنا ہوا ہے۔ اسکے بعد جنرل مشرف نے ایک منتخب حکومت الٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور 10 سال حکومت میں رہا۔ اس نے خود کو لبرل مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کی۔ موصوف ایک من پسند پارٹی بنا کر قانون و انصاف کا خون کرتے رہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو بھی دیکھ لیں۔ ہم نے ہر ایک سے نظام تبدیل کرنے کی توقع لگائی، کیا کسی نے نظام کو ذرہ برابر تبدیل کرنے کی کوشش کی؟ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے آج کے جتنے بڑے سیاسی نام ہیں کسی کا ویژن ہی نہیں کہ کس قانون میں کیا تبدیلی کریں جس سے عوام کو فائدہ ملے۔ ان کے بقول یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم کسی لیڈر کو تب تک ہیرو یا مسیحا نہ سمجھیں جب تک وہ عوامی فلاح کیلئے نظام میں تبدیلی نہیں کرتا۔ دنیا میں ایسے ہی تبدیلی آئی ہے یہاں بھی ایسے ہی آئے گی۔

Back to top button