کیا پیپلز پارٹی بجٹ کے بعد وفاقی کابینہ میں شامل ہو جائے گی

قائم مقام صدر اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے نون لیگ کی حکو۔ت کا حصہ بننے کا عندیہ دینے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کے ایک وفد کے اتوار کے روز وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں پھر سے چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی جلد وفاقی کابینہ کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی مرکزی قیادت اس حوالے سے خاموش ہے جب کہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نون لیگ کی جانب سے پیپلزپارٹی کیلئے حکومت کا حصہ بننے کی آفر موجود ہے تاہم بجٹ سے پہلے اس حوالے سے کسی بھی پیشرفت کے امکانات معدوم ہیں۔
خیال رہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد جب سے مسلم لیگ نواز نے پیپلز پارٹی کی مدد سے وفاق اور صوبہ پنجاب میں حکومتیں بنائی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف اور ن لیگ کے کئی دیگر سینیئر رہنما متعدد بار پیپلز پارٹی کو کابینہ کا حصہ بننے کی دعوت دے چکے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اس بارے میں اب تک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا گیا۔اطلاعات ہیں کہ 26 مئی کے روز بھی وزیراعظم شہباز شریف کی پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماوں کے وفد کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے اور کابینہ سمیت تمام امور میں شراکت داری پر تبادلہ خیال کیاہے۔ تاہم اس ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی مجموعی و سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا ہے اور مالی سال 2024-25 کے بجٹ کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔
دوسری طرف چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی جو اس وقت آصف زرداری کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے قائم مقام صدر بھی ہیں، نے اتوار کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت کی حکومت میں باقاعدہ شمولیت کے لیے بات چیت جاری ہے اور انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے جو اس موضوع پر حکومت سے بات کرے گی۔یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی صوبہ پنجاب اور مرکز میں دستیاب جگہ دیکھ کر اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔
مالدیپ اپنے ملک میں اسرائیلیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی
پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں کابینہ کی شمولیت کے حوالے سے ہونے والی بات چیت سے آگاہ پی پی پی کے ایک باخبر رہنما کے مطابق دونوں جماعتوں نے اس سلسلے میں ابتدائی فیصلے کر لیے ہیں اور پیپلز پارٹی اب اس معاملے کو سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) میں لے جانا چاہتی ہے۔ کیونکہ’پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کابینہ میں شامل نہیں ہونا اور اب سی ای سی ہی اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتی ہے۔ جس دن سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اگلا اجلاس ہو گا اس دن کابینہ میں جانے کے متعلق اعلان کیا جا سکتا ہے۔‘انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ وزارتوں کا فیصلہ ہونے سے پہلے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کا فیصلہ ہو جائے کیونکہ ان کی جماعت پہلے ان لوگوں کو ایڈجسٹ کرنا چاہتی ہے جنہوں نے قائمہ کمیٹیوں کا سربراہ بننا ہے۔’اب اس معاملے میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا بھی ایک پہلو آ گیا ہے کیونکہ کچھ حلقوں کی یہ رائے بھی ہے کہ پی اے سی کی سربراہی سنی اتحاد کونسل کی بجائے پیپلز پارٹی کو دی جائے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں جلد فیصلہ متوقع ہے اور کسی بھی وقت قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی کا اعلان کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ طارق فضل چوہدری کے مطابق کابینہ میں توسیع کے عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اور اس کا حتمی فیصلہ وزیراعظم پیپلز پارٹی اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ تمام معاملات طے کرنے کے بعد کریں گے۔ تاہم مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی نے وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور وہ بجٹ کے بعد مختلف قلمدان سنبھالے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے تبادلہ خیال کے دوران جو تاثر سامنے آتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ اب جلد سے جلد کابینہ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ’اس سے پہلے پیپلز پارٹی کی ترجیح آئینی عہدے لینا تھا، وہ انہوں نے لے لیے اور بینظیر انکم سپورٹ کی سربراہی بھی لے لی۔ اب وہ بجٹ کے بعد وفاقی کابینہ کا باقاعدہ حصہ بننے کے لئے تیار ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے بارے میں عوامی تاثر ہے کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں اور یہ تاثر ہونے کے باوجود ان کا کابینہ میں شامل نہ ہونا عقلمندی نہیں ہے اور اسی وجہ سے سندھ کے بیشتر اراکین اسمبلی کابینہ کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔تاہم ان کے خیال میں بلاول بھٹو اس مرحلے میں کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ اپنی توجہ پارٹی کی تنظیم پر مرکوز رکھیں گے۔ مبصرین کے مطابق’چند ایک وزارتیں ایسی ہیں جن پر پیپلز پارٹی اچھی کارکردگی دکھا سکتی ہے جیسے کہ بین الصوبائی رابطہ اور وزارت انسانی حقوق اور یہ جماعت ایسی ہی وزارتیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔‘کابینہ میں تاخیر سے آنے کے متعلق مبصرین کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی پہلے آئینی عہدوں پر گرفت مضبوط کرنا چاہتی تھی اور دیکھنا چاہتی تھی کہ نواز لیگ کس قدر پائیدار حکومت چلا سکتی ہے۔’پیپلز پارٹی یہ بھی چاہتی تھی کہ اس حکومت کے پہلے مشکل بجٹ کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ لے، اسی لیے اس نے بجٹ کے بعد کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔‘
