PMLQ کے 5 میں سے 4 ووٹ عمران کے خلاف جانے کا امکان


باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان سے ہاتھ ملا کر وزارت اعلیٰ کا وعدہ حاصل کرنے والی قاف لیگ کے پانچ میں سے چار اراکین قومی اسمبلی بھی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں وزیر اعظم کے خلاف ووٹ دینے جا رہے ہیں۔ قاف لیگ کے ایم این اے طارق بشیر چیمہ کی پرویز الہی کے خلاف کھلی بغاوت کے بعد اب ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں چوہدری مونس الٰہی کے علاوہ قاف لیگ کے باقی تین ممبران قومی اسمبلی بھی تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویزالٰہی کی جانب سے چوہدری شجاعت حسین کو اعتماد میں لیے بغیر وزارت اعلی کی پیشکش قبول کرنے کے بعد سے چودھری خاندان میں شدید اختلاف پیدا ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق پرویز الہی کو بتا دیا گیا ہے کہ وفاق کی سیاست کو پنجاب کی سیاست سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی اگر وہ وزیراعلی پنجاب بننے کی کوششیں جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ان کا مرکز میں قاف لیگ کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز تحریک عدم اعتماد میں طارق بشیر چیمہ کے علاوہ چوہدری شجاعت حسین کے چکوال سے منتخب ہونے والے صاحبزادے، چودھری سالک حسین، گجرات سے منتخب ہونے والے شجاعت کے بھائی چودھری وجاہت حسین کے صاحبزادے حسین الہی اور بہاولپور سے مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی مسز فرخ خان، عمران کے خلاف ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کر چکے ہیں جسے چوہدری شجاعت حسین کی حمایت حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ مرکز میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سو فیصد یقینی ہے اس لئے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہی نے عمران خان کی جانب سے وزارت کی آفر قبول کرنے میں اتنی پھرتی دکھائی کہ چودھری شجاعت حسین کو مشورے کے لیے فون تک کرنا گوارہ نہ کیا جس کا نتیجہ اب سامنے آ چکا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ چودھری خاندان میں اب اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چوہدری شجاعت نے ہمیشہ پرویز الہی اور مونس الہی کو سیاست میں آگے رکھا اور بڑا ہونے کے چکر میں قربانیاں دیں۔ انہوں نے پرویز الہی کو پنجاب کا سپیکر بنوایا اور مونس الہی کو وفاقی وزیر بنوانا، لیکن اپنے صاحبزادے سالک حسین کے حوالے سے ہمیشہ قربانی دی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پرویز اور مونس نے قاف لیگ ہی ہائی جیک کر لی اور غلط فیصلے کرنے پر اتر آئے جسکے نتیجے میں پارٹی تباہی کی طرف گامزن ہو چکی ہے۔ لہذا اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارٹی کی رہی سہی سیاست بچانے کے لیے مرکز میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حصہ ڈالا جائے۔
بتایا جا رہا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے جس کے بعد سے وہ سخت مضطرب ہیں اور مسلسل اس فیصلے کو تبدیل کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہاری ہوئی جنگ میں کودنے کی بجائے وزارت اعلیٰ کی آفر عمران کو واپس کر دیں اور پنجاب اسمبلی کی سپیکر شپ بچانے کی کوشش کریں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کا وزیر اعلی پنجاب بننا اب ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے تینوں ناراض دھڑے اپوزیشن کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرنے والے ہیں تاکہ مرضی کا وزیراعلی لایا جا سکے۔ ویسے بھی اب مرکز میں عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہے جسکے بعد پرویز الہی کے وزیر اعلی بننے کے امکانات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 اراکین پر مشتمل ہے جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی پارٹی کو 186 اراکین کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔ سال 2018 میں عثمان بزدار 194 ووٹوں سے وزیراعلٰی پنجاب منتخب ہوئے تھے۔ ق لیگ نے اپنے 10 ووٹوں سے ان کو سپورٹ کیا تھا جس کے بدلے میں پرویز الٰہی کو پنجاب اسمبلی کا سپیکر بنایا گیا تھا۔
پنجاب اسمبلی میں اب پارٹی پوزیشن یہ ہے کہ حکومتی اتحاد میں تحریک انصاف کے پاس 183 اراکین ہیں، ق لیگ کے پاس 10 اور ’راہ حق پارٹی‘ کے پاس ایک رکن ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں مسلم لیگ ن کے پاس 165 اراکین اور پیپلز پارٹی کے پاس سات اراکین ہیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو پرویزالٰہی کا وزیراعلٰی پنجاب بننا بالکل بھی مشکل نہیں لیکن مسلہ یہ ہے کہ اب حالات 2018 سے مختلف ہیں اور تحریک انصاف تین واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز ہونے کے لیے پرویز الٰہی کو جس بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے وہ حکمراں جماعت کے اندر بننے والے سیاسی دھڑے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا دھڑا جہانگیر خان ترین کا ہے جو گذشتہ سال اپریل میں بظاہر حکومت سے اپنی راہیں جدا کرچکا ہے۔ جب جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ چلایا تھا تو انہوں نے 20 سے زائد اراکین صوبائی اسمبلی کے ساتھ عدالت میں پیش ہو کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔ ترین کا ساتھ دینے والے 20 سے زائد صوبائی اسمبلی کے ممبران نے ابھی تک اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پرویز الٰہی کو اپنی راہ میں حائل رکاوٹ دور کرنے کے لیے تحریک انصاف کے سب سے بڑے دھڑے کو رام کرنا پڑے گا جواب ممکن نظر نہیں آتا۔ اسی طرح علیم خان بھی پرویز الٰہی کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں کیونکہ جب انہوں نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ شاید وہ خود وزیراعلٰی پنجاب کے امیدوار کے طور پر سامنے آئیں گے۔ علیم دس اراکین اسمبلی کی حمایت رکھنے کے دعویدار ہیں۔ تاہم جب علیم خان پارٹی سے بغاوت کی تو قاف لیگ کی جانب سے ایسے بیانات جاری ہوئے جن میں علیم کو ’کسی بھی صورت وزیراعلٰی پنجاب تسلیم نہ کرنے‘ کا اعلان کیا گیا تھا۔ایسے میں علیم خان اور پرویز الہی کے درمیان خاصی بڑی خلیج حائل ہے۔ علیم سمجھتے ہیں کہ پرویز الٰہی نے انہیں غیر ضروری طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح 14 اراکین پنجاب اسمبلی پر مشتمل غضنفر عباس چھینہ گروپ بھی پرویز الہی کی حمایت کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ یوں ان تین گروپوں سے تعلق رکھنے والے 44 اراکین اسمبلی باغی ہو چکے ہیں اور پرویز الہی کا وزیر اعلی بننے کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ دوسرے لفظوں میں تحریک انصاف کو وفاق میں جس طرح کی اندرونی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا ہے اپوزیشن کا ماننا ہے کہ صوبے میں بھی پی ٹی آئی کو ویسی ہی صورت حال درپیش ہوگی لہذا پرویز الہی کا وزیر اعلی بننے کا منصوبہ ایک دیوانے کا خواب قرار دیا جا رہا ہے۔

Back to top button