وزیراعظم کا ایک ہفتے میں ایرانی صدر سے دوسرا رابطہ، کشیدگی میں کمی پرتبادلہ خیال

وزیراعظم شہبازشریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ہفتے کے دوران دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، دونوں رہنماؤں کا خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص گزشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی اور مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے دعا کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکا، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا، جن کا مقصد امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثر راہ نکلے گی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کی مخلصانہ سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیااور مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔
