پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا پولیس نے ختم کرادیا

عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان کی بہنوں اور کارکنوں کا اڈیالہ جیل کے قریب دیا گیا دھرنا پولیس نے ختم کرادیا، مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے پولیس نے لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کارکنان نے اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنا دیا تھا اور عمران خان سے عدالتی حکم کے مطابق ملاقات کا مطالبہ کررہے تھے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود گزشتہ کئی ہفتوں سے عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان نیازی عمران خان سے ملاقات کی کوشش کرتی رہیں لیکن ناکام رہیں۔ گزشتہ منگل کو بھی ملاقات سے انکار کےبعد عمران خان کی بہنوں اور پارٹی حامیوں نے دھرنا دیا تھا،جسے بعد میں واٹر کینن کے ذریعے منتشر کردیا گیا۔
اڈیالہ جیل کے قریب دیے گئے دھرنے پر پولیس نے رات دو بجے کے قریب آپریشن شروع کیا اور ایک بار پھر واٹر کینن کےذریعے مظاہرین کو منتشر کیا۔ابتدا میں واٹر کینن استعمال کیےگئے،بعد ازاں پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔کچھ پارٹی کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا۔
مجلس وحدتِ مسلمین کے رہنما علامہ راجا ناصر نے مظاہرین کے خلاف کیے گئے غیر انسانی سلوک کی مذمت کی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں پی ٹی آئی کے مرکزی شعبہ اطلاعات نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو نظرانداز کرنےاور اڈیالہ جیل کے باہر ہونےوالی ’شدید ریاستی جبر‘ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔بیان میں کہاگیا کہ یہ اقدامات محض انتظامی ناکامیاں نہیں بلکہ آئین، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے اختیار پر براہِ راست حملہ ہیں، عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی عملاً سرکاری پالیسی بن چکی ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق حکومت کے کہنے پر پنجاب پولیس نے عمران خان کی بہنوں، علامہ راجہ ناصر عباس،دیگر پارٹی رہنماؤں، پی ٹی آئی کارکنوں اور پُرامن دھرنے کے شرکا کےخلاف کیمیکل ملے پانی والے واٹر کینن استعمال کرکے ظلم کی تمام حدیں پار کردیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہاگیا کہ نہ کوئی ہنگامی صورت حال تھی،نہ کوئی قانونی جواز اور نہ ہی کسی قسم کی اشتعال انگیزی،اس کے باوجود خواتین، بزرگوں اور پُرامن مظاہرین پر کیمیکل ملا پانی پھینکا گیا،جسمانی تشدد کیاگیا اور متعدد کارکنوں کو زبردستی گرفتار کیا گیا۔یہ فسطائیت،پولیس تشدد اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے‘۔
پی ٹی آئی نے کہاکہ ایسے اقدامات ایک خوفزدہ حکومت کی گھبراہٹ، عدم تحفظ اور اخلاقی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ کہ ظلم، جبر اور فسطائیت ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی‘۔
بیان میں کہاگیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ چاہے آمریت کتنی ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے،انجام کار اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔وہ دن ضرور آئے گا جب ان غیرآئینی،غیر قانونی اور غیرانسانی اقدامات کے ذمے داروں کو مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں واٹر کینن کو مظاہرین پر پانی پھینکتےہوئے دکھایا گیا،جب کہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی۔ایک اور ویڈیو میں ایک بھیگا ہوا شخص نظر آیا،جو کہہ رہا تھاکہ اس کے ‘سینے میں جلن ہورہی ہے’ اور اس کی آنکھیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ایک ویڈیو میں بہن علیمہ خان، جن کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے، اپنے ہاتھ دیکھتے ہوئےکہتی نظر آئیں، ‘انہوں نے کیمیکل استعمال کیا ہے،یہ بہت جل رہا ہے‘۔
پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’زہریلا،کیمیکل ملا پانی استعمال کیا گیا‘۔ان کےمطابق واٹر کینن عمران خان کی بہنوں اور دیگر مظاہرین پر چلایا گیا۔میں خود گر پڑا، بہت سے کارکن گرے اور کئی کو گرفتار بھی کیا گیا۔
