سندھ اور پنجاب میں کچے کے ڈاکوؤں کا گٹھ جوڑ بے نقاب

 

 

 

سندھ اور پنجاب کے سرحدی کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں اور پولیس کا مکروہ گٹھ جوڑ اب پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ دونوں صوبوں کی پولیس میں موجود کالی بھیڑیں نہ صرف اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کی مکمل سہولتکاری کرتی ہیں بلکہ انہیں ہر ممکن تحفظ بھی دیتی ہیں۔ اس کے بدلے کچے کے ڈاکو تاوان کی رقم میں سے باقاعدہ حصہ ان تک پہنچاتے ہیں، جس کی وجہ سے برسوں سے جاری یہ جرائم پیشہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق پولیس کے چند بددیانت اہلکاروں کی کرپشن، مخبری اور دوہرے کردار کے باعث کچے کے علاقوں میں ہونے والے آپریشنز ناکامی سے دوچار ہو رہے ہیں۔ بددیانت پولیس اہلکار اکثر اوقات کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی ڈاکوؤں کو خفیہ اطلاع پہنچا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ گروہ نہ صرف بروقت فرار ہوجاتے ہیں بلکہ کئی مواقع پر تو یہ صورتحال اتنی سنگین ثابت ہوتی ہے کہ آپریشن میں شریک پولیس ٹیموں کو بھی جانی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق پولیس کے محکمے میں موجود چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے آج بھی کچے کے علاقے میں ڈاکو راج قائم ہے اور جرائم پیشہ عناصر نے مخصوص علاقوں میں عملاً اپنی متوازی حکومت بنا رکھی ہے، جہاں پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان علاقوں میں جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ڈاکوئوں کے سامنے انتظامیہ اور پولیس بے بس دکھائی دیتی ہے۔ اسی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصے سے ملک بھر سے لوگوں کو اغوا کرکے کچے کے علاقے میں یرغمال بنانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اغوا کی ان وارداتوں میں خواتین کو بطور ’’ہنی ٹریپ‘‘ استعمال کیا جارہا ہے اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو استعمال کرکے ڈاکوئوں نے اپنے نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرلیا ہے۔

 

خیال رہے کہ پاکستان کے تین صوبوں کے بارڈر پر واقع کچے کا لاکھوں ایکڑ رقبے پر مشتمل علاقہ گزشتہ چار دہائیوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے لیے نو گو ایریا بنا ہوا ہے۔ پنجاب کے جنوبی علاقوں رحیم یار خان، صادق آباد اور راجن پور، جبکہ سندھ کے شمالی شہروں شکار پور، گھوٹکی اور کشمور کے دریائے سندھ کے اطراف کے علاقے ڈاکوؤں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ اسی علاقے میں بلوچستان کی حدود بھی شروع ہوتی ہے۔ سرکاری محکموں کے ریکارڈ کے مطابق انگریز دور سے دریاؤں کے بہاؤں پر لگائے گئے حفاظتی بندوں کے اندر واقع علاقوں کو ’کچے کا علاقہ‘ کے طور جانا جاتا تھا۔یہ وہ علاقے ہیں، جہاں دریاؤں میں سطح آب بلند ہونے پر پانی باہر آتا ہے اور مقامی لوگ یہاں موسمی فصلیں اگاتے ہیں۔ دریائے سندھ کے دونوں اطراف موجود کچے کا علاقوں میں 80 کی دہائی سے خطرناک ڈاکوؤں کا راج ہے۔ دریا کے پانی کو شہروں میں جانے سے روکنے کے لئے دریا کے دونوں اطراف مٹی کے بند باندھے گئے ہیں۔ سندھ سے لے کر پنجاب تک ان بندوں کے درمیان لاکھوں ایکڑ کی زمین ہے۔ جہاں کئی مقامات پر گھنے جنگلات اور دشوار گزار راستے ہیں۔ لہٰذا یہ ڈاکوئوں کی محفوظ پناہ گاہیں یا کمین گاہیں ہیں۔ جہاں وہ تاوان کے لئے اغوا کئے گئے افراد کو رکھتے ہیں۔ کچے کے علاقے میں زیادہ تر کانٹے دار کیکر کے درختوں کے گھنے جنگلات ہیں۔ جن میں آدمی چھپ جائے تو نظر نہیں آتا

 

پنجاب کے دریائے راوی اور چناب کے اطراف واقع کچے کے علاقوں کو بھی جرائم پیشہ افراد چھپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن سنگین وارداتوں میں ملوث منظم اشتہاری ڈاکو دریائے سندھ کے اطراف میں موجود کچے میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ان علاقوں میں وقفے وقفے سے کئی آپریشن ہوتے رہے ہیں لیکن ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ڈیڑھ سال قبل سندھ اور پنجاب پولیس نے ان علاقوں میں مشترکہ آپریشن شروع کیا، جو اس وقت بھی جاری ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مسلح آپریشن کے باوجود کچے کے علاقوں میں چھپے ڈاکوؤں کی وارداتیں بھی جاری ہیں۔ اکثر یہاں سے گزرنے والے جی ٹی روڈ اور ملتان سکھر موٹر وے پر بھی وارداتوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ڈاکوؤں کے خلاف درجنوں بار آپریشن کئے گئے۔ لیکن خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے۔

اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے کر پی ٹی آئی والے کیا کرنا چاہتے ہیں؟

مبصرین کے مطابق سندھ اور پنجاب پولیس میں بڑی تعداد میں جرائم پیشہ افراد اور ڈاکوؤں کے مخبر موجود ہونے کی وجہ سے ان عناصر کے خلاف پولیس آپریشنز مسلسل ناکامیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اب تو جرائم پیشہ افراد اور ڈکیتوں کو پولیس آپریشنز کا کوئی ڈر خوف نہیں رہا کیونکہ جب بھی پولیس ڈاکوؤں کے خلاف کوئی آپریشن کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پولیس کا اپنا عملہ آگے مخبری کر دیتا ہے اور آپریشن ناکام ہو جاتا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس اہلکاروں کی اسی بددیانتی اور فرض فراموشی کی وجہ سے کچے کا علاقہ نوگو ایریا اور سندھ اور پنجاب کے ڈاکوؤں کی محفوظ آماج گاہ بن گیا ہے۔

 

Back to top button