پارٹی صدارت سے فارغ ہونے والے سیاسی جماعتوں کے سربراہان کون؟

سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ملک کی پہلی سیاسی جماعت نہیں ہے جس کے بانی سربراہ اپنی بنائی گئی جماعت کی سربراہی سے الگ ہوئے ہیں۔عمران خان نے چیئرمین شپ کے لیے اپنے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان کو ذمہ داری سوپنی ہے۔
سینئر صحافی عباد الحق کی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف سمیت ملک کی چھ بڑی جماعتوں کو اسی طرح کے عمل سے گزرنا پڑا جب اس سیاسی جماعت کے سربراہ کی جگہ کسی اور نے پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری ادا کی۔ماضی میں مسلم لیگ ن اس عمل سے دو مرتبہ گزرچکی ہے۔کسی جماعت کے سربراہ نے قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے کیا تو کسی رضاکارانہ طور اپنی جماعت کی صدارت سے دستبرداری کی۔کچھ سیاسی جماعتوں نے نئے سربراہ کو منتخب کرلیا تو کسی نے نئی جماعت بنالی اور اس سب سے بڑھ کر کسی نے اپنے قائد سے ہی لاتعلقی ظاہر کر دی۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے بھی قانونی مسائل سے بچنے کے لیے یہ راستہ اختیار کیا۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتراض اٹھایا تھا اور انٹر پارٹی انتخاب کو غیر منصفانہ قرار دیا۔الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو 20 دنوں میں پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا اور ساتھ یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان ’بلے‘ سے محروم ہو جائے گی۔ تاہم اب الیکشن کمیشن کی ہدایت پر دوبارہ ہونے والے انٹر پارٹی الیکشن میں پی ٹی آئی نے بیرسٹر گوہر خان کو پارٹی کا بلامقابلہ نیا چیئرمین تحریک انصاف چن لیا ہے۔بیرسٹر گوہرعلی خان تحریک انصاف کے قیام کے بعد پارٹی کے پہلے چیئرمین ہیں جن کو عمران خان کی جگہ چنا گیا ہے البتہ اس دوران کئی سیکریٹری جنرل رہے۔
جہاں عمران خان کی چیئرمین شپ کو کچھ اور سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے وہیں بعض مبصرین تحریک انصاف کے سربراہ کے اس قدم کو دانشمندی سے تعبیر کر رہے ہیں کیونکہ اس طرح اُن کی جماعت عام انتخابات میں حصہ لے سکے گی اور یہ اقدام کوئی انہونی بات بھی نہیں ہے۔2002 کے انتخابات کا اعلان ہوا تو پیپلز پارٹی کو خدشہ محسوس ہوا کہ بینظیر بھٹو کی سزا کی وجہ سے پیپلز پارٹی انتخابات سے دور ہوسکتی ہے۔ اسی اندیشے کی بنیاد پر 2002 میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پیپلز پارٹی نے انوکھی حکمت عملی مرتب کی۔
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی خود ساختہ جلاوطنی کے دوران پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی گئی جس کی سربراہی بھٹو فیملی کے بجائے سندھ سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیت مخدوم امین فہیم کو دی گئی۔پھر اسی تین ’پی‘ کی جگہ چار ’پی‘ والی نئی جماعت نے انتخابات میں حصہ لیا اور پیپلز پارٹی کی پارلیمانی سیاست اسی چار’پی‘ یعنی پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینرز کے نام سے ہی ہو رہی ہے۔
اسی طرح سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے اسی دور میں مسلم لیگ ن بھی زیر عتاب تھی اور شریف فیملی کے رکن حمزہ شہباز کے سوا تمام ارکان کو جلاوطنی میں سعودی عرب بھیج دیا گیا اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان سے مخدوم جاوید ہاشمی کے حصے میں آئی ہے جنہیں قائم مقام صدر بنایا گیا اور وہ اُس وقت تک پارٹی کے سربراہ رہے جب تک شریف فیملی کی واپسی نہیں ہوئی۔2016 میں نواز شریف کو نااہلی کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنی جماعت کی صدارت چھوڑنی پڑی اور ان کی جگہ ان کے بھائی شہباز شریف کو پارٹی کا سربراہ بنایا گیا اور وہ ابھی تک اس عہدے پر برقرار ہیں۔
1975 میں جب نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف پیپلز پارٹی کے رہنما حیات شیر پاؤ کی بم دھماکے میں موت واقع ہوئی تو نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور اس کے نتیجے میں اس پر پابندی لگی۔یہ وہی وقت تھا جب پارٹی کے سربراہ ولی خان سمیت مرکزی قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا تو ولی خان کی اہلیہ نسیم ولی خان نے ایک طرح پارٹی کے سربراہی کا بیڑا اٹھایا۔
اپنے دور کی اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان عملی سیاست سے دستبردار ہوئے اور اپنی جماعت کی قیادت بھی چھوڑ دی لیکن پھر دوبارہ جماعت کی باگ ڈور سنبھالی اور کچھ عرصہ اس کے چیئرمین رہے۔اصغر خان نے اپنی زندگی میں ہی تحریک استقلال کو عمران خان کی جماعت تحریک انصاف میں ضم کر دیا اور پھر دوبارہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے سیاسی جماعت بنائی اور اس کے سربراہ بنے لیکن اپنی بیماری اور دیگر وجوہات کی بنا پر سیاسی جماعت کی صدارت سے الگ ہو گئے۔
ایم کیو ایم بھی اسی کڑی میں شامل سیاسی جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد کی تقریر کے بعد یہ جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اس طرح ایک ایم کیو ایم لندن اور دوسری اہم کیو ایم پاکستان کہلائی۔ ایم کیو ایم کی مرکزی
معروف اداکارہ و پرڈیوسر نوشین مسعود چل بسیں
قیادت نے اپنے قائد سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔
