سیاسی جماعتیں بھرپور انتخابی مہم چلانے سے گریزاں کیوں؟

پاکستان میں الیکشن کو ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لیکن انتخابات میں اتنا کم عرصہ رہ جانے کھ باوجود ملک بھر میں کوئی خاص سیاسی گہما گہمی دیکھائی نہیں دے رہی۔ پاکستان کی بے جان انتخابی مہم میں اکا دکا آوازیں تو سنائی دے رہی ہیں جبکہ بینرز اور پوسٹرز بھی لگنا شروع ہو گئے ہیں لیکن ملک کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے زمین پر کسی قسم کی کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کی انتخابی مہم میں جوش و خروش نظر نہ آنے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں موسم کی سختی، دہشت گردانہ واقعات، عوام کی معاشی مشکلات، الیکشن کی غیر یقینی صورتحال اور ٹکٹوں اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے پارٹیوں کے اندرونی اختلافات بھی شامل ہیں۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر ریاستی اداروں اور حکومت پر طرح طرح کے الزامات عائد کر رہی ہے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ بارے پی ٹی آئی کے الزامات درست نہیں ہیں۔ پاکستان میں ایسے تمام لوگوں کو الیکشن میں حصہ لینے اور اور انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے جو قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہیں، ”جن لوگوں پر سنگین نوعیت کے مقدمات چل رہے ہوں ان کے لیے فری اینڈ فیئر انتخابی مہم کا حق مانگنا نا قابل فہم ہے۔‘‘
بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق دو ہزار آٹھ کے بعد سے خاص طور پر اپنی مرضی کے نتائج کے حصول کے لیے انتخابی مہم میں ‘غیر متعلقہ مداخلت‘ دیکھی جا رہی ہے۔ مقدمات، پکڑ دھکڑ اور کسی خاص جماعت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی روایت کافی پرانی ہے، ”دو ہزار تیرہ میں بھی مرضی کی پارٹی کو ہی جتوایا گیا تھا۔ دو ہزار اٹھارہ میں بھی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے الیکشن عمل پر اثرانداز ہوا جاتا رہا ہے اور اب بھی کچھ تبدیلیوں کے ساتھ وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔‘‘
تجزیہ کار ڈاکٹر عاصم کے مطابق، ”انتخابی مہم میں سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹرز تک اپنی بات پہنچانے اور انہیں اپنے پروگرام سے آگاہ کرنے اور ان کے اعتراضات کا جواب دینے کا موقع ملتا ہے اور اگر ہم یہ دروازے صرف ایک پارٹی کے لیے بند کر دیں گے تو پھر ووٹر وہی سنیں گے جو آپ سنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ان کی ذہن سازی ہوگی۔ ہمارے ہاں خوف اور ہراسانی ایک ٹول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے الیکشن سے جمہور کا جمہوریت پر اعتماد باقی نہیں رہتا۔ اس سے ملک ہی نہیں بلکہ انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے والوں کو بھی نقصان ہوتا ہے۔ اور نظام نہیں چل پاتا۔‘‘
دوسری جانب نوید چوہدری سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو ملک میں واپس بلانے والوں نے کچھ ہفتے پہلے پلان بی پر غور شروع کر دیا تھا اس پر نواز شریف بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گھر بیٹھ گئے تھے اور اب ان کی نا اہلی ختم ہو گئی ہے، اس لیے انہوں نے پندرہ جنوری سے جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے۔‘‘نوید چوہدری کے بقول جمعیت العلمائے اسلام ف نے پچھلے چند سالوں میں دھرنے دے کر اور لانگ مارچ کرکے بڑی محنت کی تھی اب ان کو ‘حیرت انگیز‘ دہشت گردی کا سامنا ہے، ”لگتا ہے کہ ان کے بارے میں فیصلہ سازوں کا خیال ہے کہ فاٹا اور افغانستان میں سخت گیر عناصر کی موجودگی میں کہیں جے یو آئی کے پی میں زیادہ طاقتور نہ ہو جائے۔ اس لیے انہیں بھی محدود انتخابی مہم کی سہولت میسر ہے۔ اور وہاں پرویز خٹک کو زیادہ اہمیت ملنا شروع ہو گئی ہے۔‘‘
دوسری جانب انتخابی امور پر نگاہ رکھنے والے فافن کے بانی اور غیر سرکاری تنظیم پتن کے سربراہ سرور باری کے مطابق اس انتخابی مہم میں دیکھے جانے والے شواہد کی بنا پر بڑے اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتخابات انیس سو ستتر کے بعد سب سے متنازعہ انتخابات بن چکے ہیں اور کچھ پارٹیوں کا وفاق میں اور کچھ کا صوبوں میں راستہ روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور یہاں لیول پلینگ فیلڈ نظر نہیں آ رہی ہے۔
