الیکشن بارے بڑی سیاسی جماعتیں پریشانی کا شکار کیوں؟

2018 کے انتخابات کے حوالے سے بڑی جماعتوں کے قائدین کا تذبذب، خدشات اور فیصلے خاصے غیرروایتی ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپی کے بھی حامل ہیں مولانا کی جانب سے پہلی مرتبہ اپنے آبائی حلقے سے باہر الیکشن لڑنے کی خواہش پر سوشل میڈیا پر ان کی یہ میم بھی خاصی دلچسپ ہے کہ۔ ’’اس مرتبہ فتح حاصل کرو چاہئے اس کیلئے تمہیں پشین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جہاں نواز شریف مانسہرہ سے ریکارڈ ووٹ لینے کے خواہش مند ہیں،وہیں بلاول بھٹو اسمبلی سے باہر رہنے کے متحمل نہیں ہوسکتے،اسی لئے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف، 2002 کے بعد پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے ایوان سے باہر رہنے والے مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم کے منصب کے امیدوار بلاول بھٹو نے اپنی روایتی نشستوں کے علاوہ بھی دیگر صوبوں سے الیکشن لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ان میں میاں نواز شریف مانسہرہ، مولانا فضل الرحمان پشین سے اور بلاول بھٹو جنہوں نے اپنی انتخابی سیاست کا آغاز ہی لیاری سے کیا تھا لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ اس مرتبہ ناکامی کے خوف سے جہاں انہوں نے لیاری سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں اسمبلی میں اپنی پہنچ کو یقینی بنانے کیلئے لاڑکانہ این اے 196جہاں سے بینظیر کامیابی حاصل کرتی تھیں کے علاوہ این اے 194قمبر شہداد کوٹ سے کاغذات جمع کروا دئیے ہیں۔
خیال رہے کہ کراچی کے علاقے لیاری کو کئی حوالوں سے بین الاقوامی شناسائی حاصل ہے۔بینظیر بھٹو اور آصف زرداری نے بھی یہاں سے الیکشن لڑے جبکہ بلاول بھٹو نے اپنی انتخابی سیاست کا آغاز بھی لیاری سے ہی کیا تھا امر واقعہ ہے کہ گزشتہ قومی انتخابات میں بلاول بھٹو کو لیاری کے حلقے سے ہونے والی شکست کو سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی غیر مقبولیت کا ایک آغاز اس لئے بھی قرار دیا جارہا تھا کہ شکست کے ووٹوں کا تناسب بہت زیادہ تھا اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سندھ میں تسلسل کے ساتھ حکومت میں رہنے والی جماعت کے کارکن اور دیگر شہری زندگی کی بنیادی سہولتوں پانی، گیس سمیت دیگر ضرورتوں سے محروم تھے اور اسی باعث پارٹی کی قیادت میں ان خدشات نے جنم لیا کہ بلاول بھٹو جو ڈیڑھ سال تک وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہے اور اب نئے انتخابات میں وزیراعظم بننے کے امیدوار ہیں اگر اس مرتبہ انہیں شکست ہوئی تو ان کے سیاسی مستقبل پر سوالات پیدا ہو جائیں گے۔یہ سیاسی خوف بھی لاحق تھا کہ بلاول بھٹو جنہیں لیاری کی نشست پر حلقہ این اے 246میں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی تھی پہلے نمبر پر پی ٹی آئی اور دوسرے نمبر پر پاکستان تحریک لبیک تھی، بلاول بھٹو نے اس حلقے سے 40ہزار سے بھی کم ووٹ حاصل کئے جو سبقت لے جانیوالے دو امیدوار کو حاصل ہونے والے دونوں کے تناسب سے بہت کم تھے۔
غیرجانبدار تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ نواز شریف کا مانسہرہ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ اس حوالے سے بھی انتہائی موزوں ہے کہ ان کے اس فیصلے کا مقصد محض انتخابی جیت نہیں بلکہ اس حلقے سے ریکارڈ ووٹ حاصل کرنا ہے جو ان کی مقبولیت کے دعوٰوں کی تصدیق کے مترادف ہوں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےضلع پشین میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور یہ پہلا موقعہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنے صوبے کے پی کے سے باہر کے
کسی صوبے سے انتخاب لڑینگے۔
