پنجاب میں سیاسی انتشار میں اضافے کا خطرہ کیوں؟

پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبہ پنجاب میں الیکشن ملتوی کرنے کے فیصلے کے بعد جہاں ملک میں سیاسی بے یقینی کی کیفیت میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے وہیں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے التواء سے ملک میں نیا سیاسی و آئینی بحران پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

 الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو متعدد قانون دان اور تجزیہ کار آئین اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو موجودہ حالات کھ مطابق راست اقدام قرار دیا ہے۔ وزیر قانون کے مطابق صوبے میں سیاسی انتشار اپنی انتہا پر ہے ان حالات میں انتخابات کا انعقاد خونی ہو گا۔ دوسری جانب رانا ثنا اللہ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد جمعرات کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’حالات ایسے ہیں کہ اگر تدبر اور دانائی سے فیصلہ نہ ہوا تو فساد، انارکی اور افراتفری پھیلے گی، سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آئے گا۔‘انھوں نے لکھا کہ ’الیکشن کےحوالے سے مختلف آرا ہیں، پارلیمنٹ کو رہنمائی کا اختیار حاصل ہے، حکومت اور اداروں کی رہنمائی کرے۔ ہم آئین کےمطابق معاملات آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

تاہم موجودہ حالات میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کی تاریخ بدلنے کا اختیار تھا یا نہیں اور کیا اب الیکشن ایک ساتھ ہی ہوں گے؟اس قانونی اور انتظامی سوال کے جواب کے لیے شاید ایک بار پھر سپریم کورٹ کا رخ کیا جائے گا تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس اچانک فیصلے کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے اور ملک میں جاری سیاسی بحران اور افراتفری میں مزید اضافہ ہو گا؟

تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے الیکشن کے التوا کو حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت کی ناکامی ہے، الیکشن کروانا چاہیے۔‘عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’یہ بات ضرور ہے کہ عمران خان نے جس طریقے سے اسمبلیوں کو توڑا اس پر تحفظات تھے تاہم وزرات دفاع اور دیگر اداروں کی جانب سے جو جواب آیا اس سے بھی بحران پیدا ہو گا۔‘’انتخابات نوے دن میں ہو جاتے تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ اس مسئلے کا آئینی حل نکالا جا سکتا تھا اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت کا بھی قانونی حل نکالا جا سکتا تھا۔‘

عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’اس فیصلے سے غیر یقینی کی صورتحال بڑھے گی، جو الیکشن ہونے کے بعد بھی بڑھتی۔‘’پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر چیز ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہے اور دے گی۔ آئینی اور سیاسی بحران کی ذمہ داری تمام اداروں کے ساتھ عدلیہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔‘عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’تحریک انصاف نے تقسیم بڑھا دی جس سے مذاکرات کے دروازے بند ہوئے لیکن حکومت اور برسراقتدار نو جماعتوں کو مذاکرات کا موقع نکالنا چاہیے جن کے ذریعے پر امن طریقے سے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں کھل کر مذاکرات ہوں جن میں عمران خان کو بھی دعوت دی جائے۔‘’سیاسی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ سیاسی اقدار کے ساتھ پارلیمان کو مؤثر کرتیں، معتبر کرتیں۔‘

کچھ ایسی ہی رائے صحافی ضرار کھوڑو نے سوشل میڈیا پر دی۔صحافی ضرار کھوڑو نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’یہ معاملہ اب سپریم کورٹ جائے گا اور الیکشن کمیشن گیند کو وزارت خزانہ، دفاع اور داخلہ کے پاس پھِینکے گا جن کو عدالت بلایا جائے گا۔ اگر انھوں نے کسی بھی وجہ کی بنیاد پر انکار کیا تو کیا ان پر توہین عدالت لگے گی؟‘انھوں نے لکھا کہ ’اگر الیکشن ایک ساتھ ہونا ہیں تب بھی یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے لیے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، کسی طرح کے اتفاق کی ضرورت ہے۔ اس طرح بلڈوز کرنے سے مزید بگاڑ پیدا ہو گا۔‘

پیپلز پارٹی کے سابق رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے سوشل میڈیا پر ردعمل میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے التوا آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔انھوں نے لکھا کہ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر کیا جو الیکشن سے خوفزدہ ہیں۔صحافی نصرت جاوید نے کہا کہ ’ریاستی ادارے یا حکومت عام طور پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فیصلے وہی کرتے ہیں۔‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ ریاستی ادارے کیوں انتخابات میں التوا کے حامی ہیں، تو نصرت جاوید نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ریاستی ادارے عمران خان کے حالیہ بیانات سے خوش نہیں جن میں تحریک انصاف کے چیئرمین نے قتل کی سازش کے الزامات عائد کیے۔‘انھوں نے کہا کہ ’قتل کی سازش کا الزام درست ہے یا نہیں، عمران خان کے بیانات نے ریاستی اداروں کو مشتعل ضرور کیا۔‘

نصرت جاوید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے تحریک انصاف سپریم کورٹ پر تکیہ کرے گی لیکن سپریم کورٹ صرف حکم دے سکتی ہے، خود الیکشن نہیں کروا سکتی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ریاستی ادارے وہی جواب سپریم کورٹ کو دیں گے جو انھوں نے الیکشن کمیشن کو دیا تو دیکھنا ہو گا کہ عدلیہ کیا کرتی ہے۔‘

ایک ایسے وقت میں جب انتخابات کے التوا کے معاملے پر حکومت اور اہم ریاستی ادارے ایک پیج پر دکھائی دیتے ہیں، نصرت جاوید کی رائے میں تحریک انصاف کے پاس اب احتجاجی تحریک چلانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں۔’تحریک انصاف سوچے گی کہ چونکہ انتخابات میں ان کی حیت یقینی تھی، اس لیے ان کو ناکام بنانے کے لیے الیکشن کو مؤخر کیا گیا یعنی ان سے یقینی جیت چھینی گئی۔‘’اب ان کو کوئی تحریک چلانا پڑے گی۔ اس میں شدت لانا پڑے گی اور اس احتجاجی تحریک کی شدت ہی فیصلہ کرے گی۔‘

عمران خان کی دہشتگردی کے دو مقدمات،نیب نوٹسز حفاظتی ضمانت منظور

Back to top button