سیاستدان بار بار اسٹیبلشمنٹ سے دھوکہ کیوں کھاتے ہیں؟

بار بار کی فوجی مداخلت نے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کو اتنا تگڑا کر دیا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے سیاستدان بھی اپنا اقتدار بچانے اور پھر فارغ کیے جانے کے بعد واپس آنے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیلیں کرنے پر مجبور ہے۔ تاہم بے نظیر بھٹو کی شہادت اور نواز شریف کی تین مرتبہ اقتدار سے بیدخلی سے یہ سبق ملتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کر کے اسے مزید مضبوط کرنے کی بجائے عوام کو طاقتور بنانا چاہیے اور پھر انہی کی طاقت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جلد وطن واپسی کا عندیہ، مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے پرجوش بیانات اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شکوک و شبہات کے اظہار کے بعد ایک بار پھر نواز شریف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی ڈیل کی خبریں زیر گردش ہیں۔ فوجی ترجمان کی جانب سے ایسی کسی بھی ڈیل کو مسترد کئے جانے کے باوجود عوامی سطح پر اس حوالے سے بحث ہورہی ہے جس کی بنیادی وجہ وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان ہے کہ نواز شریف کو دوبارہ وطن واپس لا کر چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔ پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیلوں کی سیاست کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 70 کی دہائی سے لے کر اب تک کئی بار سیاست دانوں نے طاقتور اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے ذریعے راستے نکالے۔ گزشتہ دو عشروں سے پاکستان کے سب بڑے سیاسی ٹاک شو کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر کے مطابق ڈیل اور پاکستانی سیاست کا پرانا تعلق ہے اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک سب سیاست دانوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر ڈیل کی، تاکہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرسکیں۔ تاہم بقول حامد میر اگر تاریخ سے سبق سیکھا جائے تو ڈیل سے سیاست دانوں کو کبھی فائدہ نہیں ہوا بلکہ وہ مزید کمزور ہوتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ مزید طاقت پکڑ لیتی ہے۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق معروف سیاسی تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ ڈیل کا لفظ بنیادی طور پر تب استعمال ہوتا ہے جب مذاکرات کے ذریعے کسی تنازعے کو حل کیا جائے یا تناؤ کو کم کیا جائے۔ تاہم پاکستانی سیاست میں یہ زیادہ تر منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جہاں قانون یا سیاسی روایات اجازت نہ دیتی ہوں وہاں کسی کے ساتھ رعایت کرنا اور بات چیت کے ذریعے اپنے کچھ مطالبات منوانا اور کچھ دوسرے فریق کے مان جانا۔
90 کی دہائی سے سیاسی امور کی رپورٹنگ کرنے والے دی نیوز کے صحافی طارق بٹ کے مطابق پاکستان کے زمینی حقائق ایسے ہیں کہ ‘ڈیل سیاست دانوں کی مجبوری ہے، کیونکہ اس کے بغیر پاکستان میں اقتدار میں آنا ممکن نہیں۔ طارق بٹ کے مطابق پاکستانی تاریخ کی ایک بڑی ڈیل 2006-2007 میں فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں نیشنل ری کنسی لیشن آرڈیننس یا این آر او پر دستخط ہوئے تھے۔ اس ڈیل کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو اور نوازشریف دونوں پاکستان واپس آ گئے تھے۔ تاہم حامد میر کے خیال میں ذوالفقار علی بھٹو کی جنرل یحییٰ خان کے ساتھ سنہ 1971 میں اقتدار کے لیے ڈیل تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل تھی، جس کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمان کے الیکشنز میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ان کے بجائے ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے اور پھر ایک سویلین یعنی ذوالفقار علی بھٹو کو صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا تھا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل یحییٰ خان کے درمیان ڈیل ہوئی اور بھٹو اقتدار میں آگئے، تاہم اس ڈیل کے باوجود بھی بھٹو کو آٹھ سال بعد 1979 میں پھانسی دے دی گئی۔ بقول حامد میر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سیاست دانوں کو یہ سبق سکھانے کے لیے کافی تھی کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے لیکن اس سے ان کی صاحبزادی سمیت باقی سیاست دانوں نے سبق نہیں سیکھا اور بار بار دھوکے کھائے۔ حامد میر کے مطابق 1988 میں بے نظیر بھٹو انتخابات جیت گئیں تو اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار دینے سے قبل ان سے ڈیل کی اور منوایا کہ ان کے وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان اور وزیر خزانہ وی اے جعفری ہوں گے۔ یہ دونوں صاحبان اس وقت کے صدرغلام اسحاق خان اور اسٹیبلشمنٹ کے نامزد کردہ تھے۔ اسی ڈیل میں طے ہوا کہ بے نظیر بھٹو صدر کے انتخابات میں غلام اسحاق خان کی حمایت کریں گی جبکہ تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کی جماعتوں نے نوابزادہ نصر اللہ خان کو صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ ’اس ڈیل کے نتیجے میں غلام اسحاق خان ہی صدر بنے اور پھر انہوں نے ہی مئی 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی۔ گویا اس ڈیل سے بھی بے نظیر بھٹو کو فائدہ نہ ہوا۔
اس کے بعد اسی سال نواز شریف وزیراعظم بنے تو ان کی بھی اسٹیبلشمنٹ اور غلام اسحاق خان کے ساتھ لڑائی ہو گئی۔ حامد میر کے مطابق اس پر 1993 میں بے نظیر بھٹو نے غلام اسحاق خان کو ٹریپ کیا اور امید دلائی کہ نواز شریف کی حکومت ختم ہونے پر پیپلز پارٹی ان کو ہی صدر بنائے گی تاہم اب کی بار انہوں نے ایسا نہیں کیا اور صدارتی انتخابات کا وقت آیا تو فاروق لغاری کو اپنا امیدوار بنا دیا۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ ’بے نظیر نے لغاری کو اس لیے چنا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہوں گے مگر لغاری نے 1996 میں انکی حکومت ختم کردی اور نواز شریف سے خفیہ ڈیل کرلی۔ بقول حامد میر جھنگ کی سیاست دان سیدہ عابدہ حسین کی مدد سے کی جانے والی ڈیل میں طے ہوا تھا کہ فاروق لغاری بے نظیر حکومت کو ہٹائیں گے اور نواز شریف برسراقتدار آکر انہیں دوبارہ صدر بنوا دیں گے۔ اس ڈیل میں اسٹیبلشمنٹ بھی شامل تھی۔ اس کے بعد نواز شریف وزیراعظم بنے تو ان کی لغاری سے لڑائی ہوگئی۔ انہوں نے اپنے اس دور میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ، آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور صدر فاروق لغاری کو نکال دیا۔ کچھ وقت تک تو ایسے لگا کہ نواز شریف ناقابل شکست ہیں مگر پھر 1999 میں نواز شریف کی حکومت ایک فوجی بغاوت میں جنرل مشرف نے ہٹا دی۔ پھر بے نظیر بھٹو نے 2007 میں جنرل پرویز مشرف سے ڈیل کرلی۔
پی ٹی آئی کو کلین چٹ دینے والی آڈٹ کمپنیاں فراڈ نکلیں
حامد میر کے بقول ‘یہ ڈیل امریکہ اور برطانیہ نے کروائی تھی۔ اس ڈیل کے مطابق بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کیے جانے تھے۔ اس ڈیل کے تحت بے نظیر بھٹو کو وطن واپس نہیں آنا تھا مگر پھر بھی وہ واپس آئیں اور انہیں شہید کردیا گیا۔ گویا انہیں اس ڈیل سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا۔ حامد میر کے مطابق نواز شریف نے بھی تین مرتبہ ڈیل کی مگر انہیں بھی بار بار اقتدار سے نکال دیا گیا۔
اس سوال پر کہ ڈیل کی روایت کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ جب سسٹم بریک ڈاؤن کر جائے تو پھر ڈیل ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ سیاسی پلیئرز میں دشمنی اتنی بڑھ گئی ہے کہ تیسرے فریق کو مداخلت کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اپوزیشن اور حکومت دونوں قواعد کے تحت چلیں تو پھر پھر بیرونی مداخلت کا امکان نہیں رہتا مگر سیاست دان آپس میں معاملات طے نہیں کر پاتے۔ رسول بخش رئیس کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرون خانہ کچھ ہو رہا ہے اور وزیراعظم یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اس سے خوش نہیں ہیں اور وہ مزاحمت کریں گے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا وہ اگلے ایک دو ماہ میں سامنے آجائے گا۔ طارق بٹ کے مطابق پاکستان میں سیاست دانوں کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں کیونکہ طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہوتی ہے۔ لیکن حامد میر کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو سبق سیکھتے ہوئے اب طے کرنا چاہیے کہ خفیہ ڈیل نہیں کرنی بلکہ تمام بات چیت میڈیا اور عوام کے سامنے کریں اس طرح انہیں مستقبل میں دھوکہ نہیں ملے گا۔‘
