چینی مہنگی کر کے 300 ارب روپے کمانے والے سیاست دان بے نقاب ہو گے

پاکستان میں چینی کی برآمد اور اس کی قیمت میں اضافے سے 300 ارب روپے منافع کمانے والی شوگر ملز اور ان کے مالک سیاست دانوں کے نام سامنے آ گئے ہیں جن میں حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے۔
پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بلائے گئے اجلاس میں گزشتہ مالی سال میں چینی برآمد کرنے والی شوگر ملوں اور چینی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے منافع کمانے والوں کی تفصیلات طلب کی تھیں لیکن اسے کورا جواب دے دیا گیا۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر کی جانب سے شوگر ملز مالکان کے نام بھی مانگے گے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔ تاہم بی بی سی اردو نے چینی کی قیمت بڑھا کر 300 ارب روپے منافع کمانے والوں کے نام پبلک کر دیے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند مہینوں میں چینی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی وجہ ملک سے چینی کی برآمد کو قرار دیا گیا تھا جب گزشتہ سال ساڑھے سات لاکھ ٹن کے لگ بھگ چینی برآمد کی گئی۔
حکومت کی جانب سے چینی برآمد کی وجہ اس کے سرپلس سٹاک کو قرار دیا گیا تھا، تاہم اس برآمد کے بعد مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ملک کے کچھ حصوں میں چینی کی قیمت دو سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔
بی بی سی کی خصوصی رپورٹ کے مطابق 67 شوگر ملز نے چالیس کروڑ ڈالرز یعنی 112 ارب روپے کی چینی برآمد کی۔ اس دوران جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز سب سے بڑی برآمد کنندہ کے طور پر سامنے آئی، جس نے 73,090 میٹرک ٹن چینی برآمد کی، جس کی مالیت 11 ارب روپے تھی۔ اس کے بعد ٹنڈلیانوالہ شوگر ملز ہے جس نے 41,412 میٹرک ٹن چینی برآمد کی۔ حمزہ شوگر ملز نے 32,486 میٹرک ٹن چینی برآمد کی۔ دیگر بڑی برآمد کنندگان ملز میں تھل انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ، المعیز انڈسٹریز، جے کے شوگر ملز، مدینہ شوگر ملز، فاطمہ شوگر ملز، ڈہرکی شوگر ملز، رمضان شوگر ملز، انڈس شوگر ملز، اشرف شوگر ملز، شکرگنج لمیٹڈ، یونی کول لمیٹڈ، اور حبیب شوگر ملز شامل ہیں۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اس تنظیم کے 48 ارکان ہیں، تاہم اس وقت مجموعی طور پر پاکستان میں 72 شوگر ملز کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے 38 شوگر ملز پنجاب میں ہیں، سندھ میں 30 اور خیبر پختونخوا میں آٹھ شوگر ملز کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں ذیادہ تر شوگر ملز مالکان حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لہذا ان پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے منافع کی قیمت عام صارفین کو ادا کرنی پڑتی ہے۔پاکستان میں شوگر ملز کے مالکان کون ہیں اس بارے میں بی بی سی نے تحقیقات کی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ بڑی شوگر ملز کے مالکان کون لوگ ہیں۔
اس وقت حکمران شریف خاندان کے ملکیتی شریف گروپ کی دو شوگر ملز ہیں جن میں سے ایک رمضان شوگر ملز اور دوسری العربیہ شوگر مل ہے۔ شریف گروپ کی بنیاد میاں محمد شریف نے رکھی تھی جو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کے والد ہیں۔ اسی طرح کشمیر شوگر مل الشفیع گروپ کی ملکیت ہے جو شریف فیملی کے رشتہ دار ہیں۔ شریف برادران کے کزن میاں الیاس معراج کا ملکیتی حسیب وقاص گروپ تین شوگر ملز کا مالک ہے۔ اس کی ملکیت میں حسیب وقاص شوگر ملز، یوسف شوگر ملز اور عبداللہ شوگر ملز شامل ہیں۔
جمالدین والی شوگر ملز دراصل جے ڈی ڈبلیو گروپ کی ملکیت یے جس کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ایک رکن جہانگیر خان ترین ہیں۔ ان کی ملکیت میں تین شوگر ملز ہیں۔ ان میں دو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان اور ایک سندھ کے ضلع گھوٹکی میں موجود ہے۔ اس گروپ کے بورڈ کے ڈائریکٹر اور چیئرمین مخدوم احمد محمود ہیں جو سابق گورنر پنجاب ہیں۔ اسی طرح ان کے بیٹے سید مصطفی محمود بھی ایک بورڈ کے ایک ڈائریکٹر ہیں جو رحیم یار خان سے پی پی پی کے ٹکٹ پر ایم این اے ہیں۔
رحیم یار خان گروپ کی ملکیتی شوگر مل رحیم یار خان میں واقع ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مخدوم عمر شہر یار ہیں جو سابق وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی ہیں اس گروپ کے مالکان میں ایک اور کمپنی بھی شامل ہے جس میں چوہدری مونس الہی شیئر ہولڈرز ہیں۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کے بیٹے ہیں۔ یہی رحیم یار خان شوگر ملز، الائنس شوگر ملز کی بھی مالک ہے۔ اشرف گروپ آف انڈسٹریز کی ویب سائٹ کے مطابق ضلع بہاولپور میں واقع اشرف شوگر ملز چوہدری ذکا اشرف کی ملکیت ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
ملتان میں قائم فاطمہ شوگر ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل مختار ہیں جو ملتان کے سابق ضلع ناظم ہیں۔ نون شوگر ملز کے بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیف اللہ خان نون ہیں جو معروف سیاسی خاندان نون فیملی کا حصہ ہیں۔
راجن پور کا دریشک خاندان انڈس شوگر ملز راجن پور میں حصہ دار ہے۔ تاندلیانوالہ شوگر ملز کی ملکیت میں دوسرے افراد کے ساتھ ہمایوں اختر خان بھی شامل ہیں جو سابق وفاقی وزیر ہیں جبکہ ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون اختر خان بھی ہیں جو اس وقت وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہیں۔
سندھ میں شوگر ملز کا جائزہ لیا جائے تو اومنی گروپ 9 شوگر ملز کا مالک ہے جن میں انصاری شوگر ملز، باوانی شوگرملز، چمبر شوگر ملز، خوسکی شوگر ملز، لاڑ شوگر ملز، نوڈیرو شوگر ملز، نیو دادو شوگر ملز، نیو ٹھٹھہ شوگر ملز اور ٹنڈو اللہ یار شوگر ملز شامل ہیں۔
اومنی گروپ انور مجید کی ملکیت ہے جو اگرچہ براہ راست سیاست میں نہیں آئے تاہم ان کا شمار صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ انور مجید کو آصف زرداری کے ساتھ جعلی بینک اکاونٹس کیس میں شریک ملزم قرار دیا گیا تھا لیکن دونوں اس الزام سے بری ہو گئے تھے۔ سندھ کے ضلع بدین میں قائم مرزا شوگر ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا شامل ہیں جو سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے شوہر ہیں۔
خیبر پختونخوا میں قائم شوگر ملز میں پریمیئر شوگر ملز اور چشمہ شوگر ملز عباس سرفراز خان کی ملکیت ہیں جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی وفاقی کابینہ کا حصہ تھے۔
