5۔2 ارب کی منی لانڈرنگ پر فضیلہ عباسی کی گرفتاری کا امکان ختم

 

 

ایف آئی اے کی جانب سے ڈھائی ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والی معروف ڈاکٹر اور اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی گرفتاری کا امکان فی الحال ختم ہو گیا ہے کیونکہ انہوں نے عدالت سے اپنی ضمانت بحال کروا لی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد اعظم خان نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی عبوری ضمانت بحال کرتے ہوئے انہیں ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت سے ملزمہ کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، جس کے بعد فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی تھیں۔

ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ڈاکٹر فضیلہ عباسی اپنے وکیل نعیم بخاری کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی عبوری ضمانت بحال کر دی۔

 

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند دن قبل ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ اور 2.5 ارب روپے کے لین دین کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس خادم حسین کی عدالت میں فضیلہ عباسی کی جانب سے دائر تین درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا گیا۔ عدالت نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فضیلہ عباسی کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی۔

 

تاہم عدالت نے منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمے میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت الزامات اور انکوائری کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے کیس میں طے شدہ قانونی طریقہ کار کی پیروی نہیں کی اور اختیارات سے تجاوز کیا۔

عدالتی فیصلوں کے بعد ردعمل کے لیے جب بی بی سی نے فضیلہ عباسی کے وکیل سے رابطہ کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ادھر اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن کے خلاف جاری تحقیقات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نام اس مقدمے سے منسلک نہ کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی کوریج کے دوران یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید وہ بھی اس میں ملوث ہیں، حالانکہ وہ کسی بھی تفتیش کا حصہ نہیں ہیں۔

 

حمزہ نے کہا کہ ان کی بہن ایک تجربہ کار پروفیشنل ہیں جن کا کیریئر کامیابیوں سے بھرپور ہے، اور انہیں ان کی دیانتداری پر مکمل یقین ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی ادارے انصاف اور شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔ ادھر ایف آئی اے میں درج مقدمے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر غیر قانونی طور پر رقوم امریکہ اور دبئی منتقل کرنے کا الزام ہے۔ تحقیقات میں ان کے 22 بینک اکاؤنٹس میں ڈھائی ارب روپے کے ٹرن اوور کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ایف بی آر میں ان کی سالانہ آمدن 5 سے 50 لاکھ روپے کے درمیان ظاہر کی گئی۔

 

ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے ایک اہلکار کے مطابق مزید شواہد سے یہ رقم تین ارب روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا اس میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں یا نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں اور ایف بی آر حکام کے ممکنہ کردار کا تعین بھی کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ تحقیقاتی ادارہ ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں اکاؤنٹس فوری بحال کیے جائیں گے۔

 

واضح رہے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی معروف ڈرماٹالوجسٹ ہیں اور اداکار حمزہ عباسی کی بڑی بہن بھی ہیں۔ ان کی ذاتی ویب سائٹ کے مطابق وہ ایک فنکارانہ جمالیات اور سائنسی مہارت کا امتزاج پیش کرتی ہیں اور قدرتی حسن کو اجاگر کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کے کلینکس اسلام آباد، دبئی اور لندن میں موجود ہیں جبکہ وہ 2003 سے ڈرماٹولوجی پریکٹس سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کنگز کالج لندن کے سینٹ جانز انسٹی ٹیوٹ آف ڈرماٹولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایم ڈی ڈرماٹولوجی مکمل کی۔ وہ پاکستان کے مختلف ٹی وی شوز میں شرکت کے باعث بھی جانی جاتی ہیں اور کاسمیٹک پروسیجرز کے حوالے سے اکثر خبروں میں رہتی ہیں، جبکہ حالیہ عرصے میں وہ سوشل میڈیا مباحث کا بھی حصہ رہی ہیں۔

Back to top button