پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش واپس لینے کا امکان

گجرات کے چوہدری خاندان کی جانب سے بار بار بدلتے ہوئے سیاسی موقف کے پیش نظر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پرویز الہی کو کی جانے والی وزارت اعلی کی پیشکش پر نظرثانی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ شہباز شریف کی چوہدری برادران کے گھر جا کر ملاقات کے بعد آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے تجویز پیش کی تھی کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دینے کے عوض پرویز الہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دے دی جائے۔

اس دوران پرویز الٰہی نے لاہور میں بلاول ہاؤس جا کر آصف علی زرداری سے ملاقات بھی کی۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں کچھ باتیں طے ہوئی تھیں اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ اب چوہدری برادران کی جانب سے حکومت کا ساتھ دینے کے حوالے سے مزید کوئی پبلک یقین دہانی نہیں کروائی جائے گی خصوصا جب تک نواز لیگ کی قیادت انہیں وزیر اعلی بنانے کی تجویز کی منظوری نہ دے دے۔

تاہم اس انڈرسٹینڈنگ کے برعکس پرویزالٰہی کے صاحبزادے مونس الہی کی جانب سے یہ بیان سامنے آ گیا کہ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں واضح کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے قاف لیگی قیادت کی ملاقاتوں کے باوجود ان کی جماعت عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیوں غلط ہیں۔

اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کے آفس کی جانب سے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ اسد قیصر کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں مونس الہی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اپنی کمٹمنٹ کے مطابق عمران خان کے اتحادی رہیں گے اور اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے کے حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیاں غلط ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ پریس ریلیز جاری ہوئی تب تک نواز لیگ کی قیادت پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کے حوالے سے مشاورت کا آغاز کر چکی تھی لیکن اس ڈویلپمنٹ کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی۔

اس دوران اپوزیشن جماعتوں میں یہ خدشات بھی جنم لینے لگے کہ اگر نواز لیگ پرویز الہی کو وزارت اعلی کے لئے نامزد کرنے کی آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کی تجویز کو منظور کرنے کا اعلان کر دے تو گجرات کے سیانے چوہدری ڈبل گیم کھیلتے ہوئے یہی آفر عمران خان کی جانب سے کیے جانے پر قبول تو نہیں کر لیں گے کیونکہ ایسا ہوا تو اپوزیشن کو شدید دھچکا لگے گا۔

اسی دوران 25 فروری کی شام پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پر ایک ہی وقت میں یہ خبر چلنا شروع ہوگئی کہ سپیکر پنجاب اسمبلی اور عمران کے اتحادی چوہدری پرویز الہی نے اپوزیشن کی قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے کم کسی آفر پر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔

کیا تحریک لبیک پھر سے حکومت کو آگے لگانے والی ہے؟

ساتھ میں یہ خبر بھی چلی کہ اگر انہیں وزارت اعلی دے دی جائے تو وہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کی گارنٹی دیتے ہیں۔ میڈیا پر چلنے والی بریکنگ بیوز کے مطابق پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان تازہ رابطوں میں چوہدری برادران نے آصف زرداری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جس کے مطابق (ق) لیگ وزارت اعلی سے کم پر کسی بھی صورت اپوزیشن کا ساتھ نہیں دے گی۔

اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدریوں کی جانب سے ایسی خبر چلوانے کا مقصد اپوزیشن پر دباو ڈالنا اور اسے بلیک میل کرنا تھا جسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ اسی دوران 26 فروری کو چیئرمین صادق سنجرانی بھی ظہور الہی روڈ لاہور پر واقع چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پہنچ گئے اور ان سے ایک طویل ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شاید سنجرانی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چودھری پرویز الہی کے لیے وزارت اعلی پنجاب کی کاؤنٹر آفر لے کر آئے تھے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کی قیادت کو پہلے ہی آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پرویز الہی کو وزیر اعلی کا امیدوار بنانے کی تجویز سے اختلاف تھا لیکن وسیع تر مفاد میں شہباز شریف کو چودھریوں کے گھر جانے پر بھی آمادہ کیا گیا۔

تاہم اب چوہدریوں کی جانب سے بار بار اپنا سیاسی موقف بدلنے کے بعد اپوزیشن حلقوں میں بد دلی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کی پیشکش واپس لے لی جائے۔ اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ وزارت اعلیٰ کی پیشکش اسی صورت برقرار رہتی ہے کہ پرویزالہی اگلے چند دنوں میں کھل کر اپوزیشن کے ساتھ آجائیں۔

Back to top button