پٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت: حکومت نے کورونا جیسے منصوبے کو حتمی شکل دیدی

وفاقی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب ممکنہ پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے پیش نظر کورونا جیسے منصوبے کو حتمی شکل دیدی۔ جس کا اعلان جلد متوقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کے خدشات کے پیش نظر درآمدی پیٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کی کھپت کم کرنے کے لیے مرحلہ وار توانائی بچت منصوبہ اور قیمتوں کے نئے نظام کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ہفتے ردوبدل کیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ سرکاری اجلاس زیادہ تر ورچوئل انداز میں منعقد کیے جائیں اور ابتدائی مرحلے میں تعطیلات کی تعداد بڑھا دی جائے، جیسا کہ COVID-19 وبا کے دوران کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں تقریباً تین سے چار درجن تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ یہ تجاویز آج وزیر اعظم شہباز شریف کو حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی، اور منظوری کے بعد ان پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔

پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان

اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں توانائی بچت کے اقدامات سرکاری اداروں میں نافذ کیے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں نجی اسکولوں، جامعات اور اسپتالوں میں آن لائن اسائنمنٹس اور دیگر ڈیجیٹل طریقہ کار کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی بھی متعارف کرائی جائے گی۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم وزیر اعظم کی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ اجلاس فنانس ڈویژن میں ہوا جہاں توانائی کی صورتحال اور ممکنہ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

Back to top button