جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں پاکستان میں لاک ڈاؤن کا امکان

ایران اور امریکہ کی جنگ کے باعث پاکستان میں تیل کا بحران شدید تر ہونے کے خدشے کے پیش نظر اب حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو اگلے ہفتے سے ملک بھر میں کورونا کی طرز پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے تاکہ پٹرول اور ڈیزل کی بچت کی جا سکے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ لاک ڈاؤن کی صورت میں سرکاری دفاتر، سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کو بند کر دیا جائے گا اور آن لائن کلاسز شروع کر دی جائیں گی، جبکہ دفاتر میں بھی ورک فرام ہوم نظام رائج کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ پٹرول پمپوں پر عوام کے لیے پٹرول اور ڈیزل کے حصول کو محدود کرنے کے لیے باقاعدہ راشن سسٹم نافذ کیا جائے۔

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک میں تیل کا بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان میں ایندھن کی فراہمی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیل کی درآمدات کا بڑا حصہ عالمی منڈیوں سے وابستہ ہے، جہاں جنگ کے باعث تہل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف درآمدی بل میں اضافہ کیا بلکہ مقامی سطح پر بھی پٹرول اور ڈیزل کی دستیابی کو متاثر کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ملک بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کے نتیجے میں عام استعمال کی ہر شے خصوصاً کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی اوپر جا رہی ہیں، جس کے اثرات براہ راست عام شہری پر پڑ رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اگلے ہفتے سے ملک میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ہنگامی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن بھی شامل ہے۔

حکومتی حلقوں میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے راشن سسٹم متعارف کروایا جائے، جس کے تحت ہر شہری کو مخصوص مقدار میں ایندھن فراہم کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد دستیاب وسائل کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پھراضافہ

دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک بھی اس بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی تیل کی قلت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جہاں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں۔ شہریوں کو کئی کئی گھنٹے انتظار کے بعد ایندھن دستیاب ہو رہا ہے۔ ان ممالک میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس نے عوامی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر خاص طور پر شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ صنعتی سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں۔

ماہرین اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آئندہ 10 روز کے اندر جنگ بندی نہ ہوئی تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر سکتی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ اس ممکنہ صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے مرحلہ وار حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سوفٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود کیا جائے گا۔ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت سرکاری دفاتر، اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند کر دی جائیں گی۔ اس دوران آن لائن تعلیم اور ورک فرام ہوم پالیسی کو فروغ دیا جائے گا، جیسا کہ ماضی میں کورونا وبا کے دوران کیا گیا تھا۔ تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کو پہلے ہی ہدایات دی جا رہی ہیں کہ وہ ڈیجیٹل نظام کی تیاری مکمل رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر آن لائن نظام پر منتقل ہوا جا سکے۔

جنگ کی وجہ سے LPG کے ذخائر ختم: صرف 9 دن کا سٹاک باقی

عوامی حلقوں میں ممکنہ لاک ڈاؤن اور ایندھن راشننگ کی خبروں پر تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ معاشی ماہرین حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ متبادل توانائی ذرائع اور سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرے تاکہ بحران کی شدت کو کم کیا جا سکے۔

Back to top button