پاک، افغان تجارت کی بندش کے ممکنہ منفی اثرات

 

 

 

تحریر : نصرت جاوید

بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت

 

نوٹ:یہ کالم پڑھنے سے پہلے ذہن میں رکھیے گا کہ اسے ہفتے کی رات بہت دیر سے لکھا تھا۔ اس وقت تک افغانستان کے چند سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی خبر عام نہیں ہوئی تھی۔صحافت کے نام پر مجھ جیسے معجون فروش عرصہ ہوا فقط سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں کی بدولت زیادہ سے زیادہ لائیکس اور شیئرز کی ہوس میں قلم گھسیٹ رہے ہیں۔ ’’حق گوئی‘‘ وہاں بہت رش لیتی ہے۔ روایتی اخبارات مگر اسے ایک حد تک ہی برداشت کرسکتے ہیں۔ اپنی کوتاہی فن مگر ہم تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں۔ ’’آزادی‘‘ کھوجانے کا جواز گھڑلیتے ہیں۔ حق گوئی کی محدودات کا رونا روتے ہوئے یہ حقیقت نظرانداز کردی جاتی ہے کہ سوشل میڈیا پر چھائے موضوعات سے ہٹ کر بھی ہمارے معاشرے اور معیشت کے بے شمار پہلو ہیں۔ ان پر اگر توجہ دی جائے تو خلق خدا کی مؤثر تعداد احساس مند محسوس کرے گی۔ سرکار مائی باپ بھی شاید ان کا تذکرہ نظراندازکرسکتی ہے۔مثال کے طورپر ایک ٹھیٹھ شہری ہوتے ہوئے بچپن سے سنتا چلاا?رہا ہوں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ تواتر سے یہ دعویٰ سنتے اور پڑھتے ہوئے بھی میں نے کبھی بطور صحافی ٹھوس اعدادوشمار سے رجوع کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ہمارے معاشرے کی کتنے فیصد آبادی اپنی بقاء اور خوشحالی کے لئے صرف زرعی شعبے پر کامل انحصار کو مجبور ہے اور وہ اس شعبے سے مطمئن محسوس کررہی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو کیوں۔2007کے آغاز میں میری بیوی کو میرے مرحوم سسر سے بطور وراثت اسلام آباد کے نواحی گائوں میں زمین کا ایک ٹکڑا ملا۔ اسے قبضہ گروپوں سے بچانے کے لئے چار دیواری کھڑی کرنا پڑی۔یہ فریضہ ادا کرتے ہوئے زندگی میں پہلی بار دیہی زندگی اور اس کی مشکلات کاا حساس ہوا۔ پانی کی حقیقی اہمیت کا اندازہ بھی اس کی بدولت ہوا۔ جو رقبہ ملا تھا وہ منافع بخش کاشت کاری کے لئے کافی نہیں تھا۔ اپنی ضرورت کے لئے سبزیاں مگراْگائی جاسکتی تھیں۔ انہیں اگانے کی کوشش کرتے ہوئے بے شمار انوکھے تجربات سے گزرا جو دل کی اداسی کا سبب ہوئے۔جن حقائق نے پریشان کیا انہیں بڑے رقبوں والے دوستوں کے روبرو دہرانے کی وجہ سے زراعت کے ساتھ جڑے چند اہم مسائل کا وسیع پیمانے پر علم ہوا۔ اس کے نتیجے میں چند کالم لکھے تو روایتی قارئین سے ہٹ کر لوگوں کی معقول تعداد نے میرے لکھے کو سراہا۔ مجھے باقاعدگی سے زرعی مسائل کے مزید پہلوئوں کے بارے میں بھی واٹس ایپ کے ذریعے آگاہ کرنا شروع ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر مقبول موضوعات پر لکھنے کی ہوس نے مگر کاشت کاروں کے بنیادی مسائل کماحقہ توجہ اور لگن سے اجاگر کرنے کا وقت ہی نہ دیا۔ مجھ سے رابطہ کرنے والے مہربان بھی مایوس ہوکر فیڈ بیک فراہم کرنا چھوڑ گئے۔گزرے ہفتے کی صبح مگر ایک مہربان دوست کا عرصہ بعد فون آیا۔ روایتی سلام دعا کے بعد فکر مندی سے وہ یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ پاک-افغان تجارت بحال ہونے کے امکانات روشن ہیں یا نہیں۔ خارجہ امور کے بارے میں ’’اندر کی خبر‘‘ عرصہ ہوا عملی رپورٹنگ سے ریٹائر ہوجانے کی وجہ سے میسر نہیں ہوتی۔ اپنے تجربے پر انحصار کرتے ہوئے البتہ یہ رائے دی کہ دہشت گردی کی تازہ ترین لہر کے ہوتے ہوئے پاک-افغان تجارت بحالی کے فوری امکانات نظر نہیں آرہے۔ میری رائے سن کر انہوں نے دْکھی آواز میں اطلاع دی کہ اگر یہ تجارت آئندہ چند ہفتوں میں بحال نہ ہوئی تو مکئی کی کاشت میں نمایاں کمی برداشت کرنا ہوگی۔ آلو اور مکئی کی فصل کا ایک دوسرے سے کیا تعلق ہے؟ اس کے بارے میں جماندرو شہری ہوتے ہوئے میں قطعاََ بے خبر تھا۔سچی بات یہ بھی ہے کہ چند ہی ہفتے قبل تک میں پاک -افغان تجارت کی بندش کے ہماری معیشت پر گہرے منفی اثرات کے بارے میں لاعلم تھا۔ مجھے گماں تھا کہ مذکورہ بندش خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے ان شہروں اور قصبوں ہی میں مشکلات کا باعث ہوسکتی ہے جو افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔ چند ہفتے قبل شادی کی ایک تقریب میں لیکن دو دوستوں سے اتفاقاََ ملاقات ہوگئی۔وہ مالٹے اور کنو وغیرہ گزشتہ چند برسوں سے ٹرک بھربھر کر افغانستان اور وہاں سے سنٹرل ایشیاء بھجواتے رہے ہیں۔ انہیں تنگ کرنے کو میں اکثر ان کی خوشحالی کا اپنی سفید پوشی سے تقابل کرتے ہوئے پھکڑ پن میں مصروف رہتا۔ اب کی بار مگر چھیڑچھاڑ کی گنجائش نہیں تھی۔ اداس چہروں کے ساتھ انہوں نے رواں برس کی مندی کا ذکر کیا جس نے بقول ان کے مالٹے اور کنو جیسے اجناس اگانے والے کاشت کاروں کو بوکھلا دیا ہے۔ان سے ملاقات کے چند دن بعد میرے ایک عزیز دوست نے نہایت تفصیل سے اس ’’قیامت‘‘ کا ذکر کیا جو آلو اگانے والوں پر پاک- افغان تجارت بند ہونے کی وجہ سے نازل ہوئی ہے۔ اتفاقاََ جب وہ اپنی داستانِ الم سنارہے تھے تو ایک مشترکہ دوست نے گواہی دی کہ وہ اپنے دودھ دینے والے جانوروں کو منڈی سے آلوخریدکر کھلارہے ہیں۔ آلو کی ایسی ’’بے قدری‘‘ میرے لئے حیران کن تھی۔ تجسس کی تسکین کے لئے تفصیلات سنیں تو علم ہوا
کہ ایک ایکڑ رقبے پر آلو کاشت کرنے کا اوسطاََ خرچ ڈھائی لاکھ روپے تک ہوتا ہے۔ فصل پک جانے کے بعد عموماََ چار لاکھ روپے کمالیتی ہے جس کے نتیجے میں آلو کے کاشت کار کو مندی کے دنوں میں بھی پچاس ہزار روپے سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا منافع ملا کرتا تھا۔ اب کی بار آلو کی وہ بوری جو جالی سے بنی ہوتی ہے اور 60کلو وزن کی حامل عموماََ700روپے کی بک رہی ہے۔ چند ہی دن قبل پٹرول اور ڈیزل کی جو قیمت بڑھی ہے اس کے نتیجے میں ایک بوری کو اوکاڑہ کی تحصیل دیپال پور سے جہلم سے آگے واقع شہروں کی منڈی تک لے جانے کے لئے اس بوری پر 400روپے مزید خرچ کرنا پڑرہے ہیں۔ ایک بوری کی ان منڈیوں میں ترسیل گویا فروخت کرنے والوں کو فقط 3سو روپے دے گی جو شاید اس کی کاشت پر اٹھے خرچ کے برابر بھی نہیں۔آلو کی فصل نہایت بارآور ہوجائے تو بازار میں پھیلی مندی کو نگاہ میں رکھتے ہوئے کاشتکار انہیں کولڈسٹوریج میں ’’ذخیرہ‘‘ کرلیتے ہیں۔گزشتہ برس بھی ربّ کے کرم سے ہمارے ہاں آلو کی قابل رشک پیداوار ہوئی تھی۔ اسے اْگانے والے کے پاس مگر اب اتنی رقم نہیں کہ ذخیرہ ہوئے آلو کو کولڈ اسٹوریج سے نکال سکیں۔ اب کی بار جو فصل بچ جائے گی اسے ’’ذخیرہ کرنے کے لئے کولڈ سٹوریج والے پیشگی رقم کا مطالبہ کرنا شروع ہوگئے ہیں۔آلو اگانے والوں کے مسائل سے آگہی کے بعد ان پر نازل ہوئے بحران کا ناطہ مکئی کی کاشت سے جاننا چاہا تو علم ہوا کہ آلو کے آڑھتیوں سے ملی رقوم ہی سے کاشت کار مکئی کی فصل کے لئے ز مین تیار کرنے اور اس میں بیچ ڈالنے کے قابل ہوتے ہیں۔ آلو کی فصل چونکہ پوری طرح پکی نہیں اس لئے اسے اْگانے والے اب اپنے ٹریکٹر یا تھریشر وغیرہ بازار میں سستے داموں بیچ کرمکئی کاشت کرنے کی کوشش کے لئے نقدی جمع کررہے ہیں۔قصور اور اوکاڑہ سے لے کر جہلم،چکوال اور راولپنڈی کی منڈیوں میں متحرک کئی دوستوں سے ٹیلی فون پر طویل گفتگو کے بعد نہایت اعتماد سے اس خدشے کااظہار کرسکتا ہوں کہ اگرپاک-افغان تجارت طویل عرصے تک بندرہی تو کینو،مالٹے اور آلو اْگانے والے بے تحاشہ کاشت کار ’’متبادل‘‘ اجناس کی تلاش کو مجبور ہوجائیں گے۔بالاآخر تجارت بحال ہوگئی تب یہ کاشت کار مذکورہ اجناس ماضی کی طرح افغانستان سے لے کر وسطی ایشیاء کے ممالک سے ہوتے ہوئے روس تک بھجوانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ دہشت گردی یقینا ایک سنگین ترین مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے یہ ہمارے ہاں افغانستان سے مسلسل ’’درآمد‘‘ہو رہی ہے۔ ہم اسے روکنے کے لئے لیکن پاک-افغان تجارت کی بندش پر ہی انحصار نہیں کرسکتے۔ پاکستانی کاشت کار کی طورخم کے پار منڈیوں کو طویل المدت بنیادوں پر محفوظ بنانے کے لئے ہماری سرکار کو ہمہ جہتی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔

Back to top button