PTI میں اقتدار کی جنگ: جیل کے باہر ٹولیوں میں احتجاج

پی ٹی آئی میں اقتدار، اختیار اور قبضے کی جنگ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ 31مارچ کے روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اظہار یکجہتی کیلئے اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونے والے یوتھیوں کی علیحدہ علیحدہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں موجودگی نے پارٹی کے اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔ ناقدین کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کا مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے گروپوں میں احتجاج اس بات کا غماز ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا تو کجا وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہیں علیمہ خان، بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ سمیت پارٹی رہنماؤں کی اظہار یکجہتی کیلئے آمد کے باوجود جیل کے باہر کے منظرنامے نے پارٹی کی یکجہتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما، کارکنان اور عمران خان کی بہنیں ہر منگل اور جمعرات اڈیالہ جیل کا رخ کرتے ہیں، جہاں منگل کو فیملی ملاقات اور جمعرات کو سیاسی ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ ملاقات نہ ہونے کی صورت میں جیل کے قریب احتجاج کیا جاتا ہے، جو عام احتجاج سے مختلف نظر آتا ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج ایک ہی جگہ جمع ہو کر نہیں کیا جاتا بلکہ مختلف پارٹی رہنماؤں کی سربراہی میں مختلف مقامات پر ٹولیوں میں تقسیم ہو کر کیا جاتا ہے۔ اور پھر سوشل میڈیا پر اس کو خوب ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ مبصرین پی ٹی آئی کی اس حکمت عملی کو باہمی اختلافات اور دھڑے بندی سے تعبیر کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ پی ٹی آئی کی اسی گروپ بندی کی عملی صورت 31مارچ کو بھی اڈیالہ جیل کے باہر دیکھنے میں آئی جہاں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر جیل کی دوسری طرف موجود پولیس چوکی کے قریب آئے، میڈیا سے گفتگو کی اور کارکنان اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات اور احتجاج میں شرکت کئے بغیر واپس روانہ ہو گئے، جبکہ پارٹی کی دیگر قیادت، کارکنان اور عمران خان کی بہنیں گورکھپور سائیڈ پر پولیس چیک پوسٹ کے قریب موجود رہیں۔
سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ عمران خان کی بہنوں سے تقریباً 200 میٹر دور ایک چائے کے ڈھابے پر بیٹھے رہے، جہاں کارکنان ان سے ملاقاتیں کرتے دکھائی دئیے جبکہ مختلف علاقوں سے آئے ایم این ایز چند افراد کے ہمراہ پولیس چوکی کے قریب آئے، کچھ لمحوں کے لیے نعرے بازی کی، ویڈیوز بنائیں اور روانہ ہو گئے۔ تاہم عمران خان کی بہنیں گورکھپور ناکے کے قریب چٹائی پر بیٹھی رہیں، ان کے ساتھ خواتین کا ایک مجمع بھی چائے کے ڈھابے پر موجود رہا لیکن پی ٹی آئی قیادت میں سے کوئی بھی لیڈر ان سے ملنے کیلئے وہاں نہیں آیا۔ اسی طرح صوبہ خیبرپختونخوا کے وزراء شفیع جان اور مینا خان آفریدی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ احتجاج کرنے کی بجائے قریبی ہوٹل میں وقت گزارا اور کارکنان سے گپ شپ لگا کر واپس چلے گئے۔ اسی دوران پی ٹی آئی کارکنان اور وکلامختلف ٹولیوں میں تقسیم ہو کر نعرے بازی کرتے دکھائی دئیے جبکہ پارٹی رہنماؤں میں ایک خلیج نظر آئی۔
پی ٹی آئی فارورڈ بلاک بننے کے بعد پنجاب میں اپوزیشن فارغ
مبصرین کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر کا منظر نامہ ظاہر کر رہا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کے مختلف دھڑے اپنی الگ الگ حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ پارٹی قیادت میں ہم آہنگی کی کمی واضح طور پر دکھائی دی۔ ناقدین کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر مختلف ٹولیوں میں احتجاج، تحریک انصاف کے عوامی امیج پر اثر ڈال رہا تھا۔ اگر اسی طرح پی ٹی آئی قیادت کے اختلافات منظر عام پر آتے رہے تو پارٹی کی سیاسی طاقت کمزور ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے بقول اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کا جمع ہونا حقیقت میں پارٹی حکمت عملی کا امتحان تھا۔ تاہم وہاں پر پارٹی رہنماؤں کی قیادت میں مختلف ٹولیوں کی موجودگی نے پارٹی کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ناقدین کے بقول جیل کے باہر احتجاج صرف نعرے بازی یا ملاقات کا ذریعہ نہیں بلکہ حقیقت میں پارٹی پالیسی، قیادت کی ہم آہنگی اور عوامی امیج کا امتحان ہوتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے اڈیالہ جیل احتجاج میں مختلف ٹولیوں کی موجودگی نے پارٹی کی داخلی سیاست میں کشیدگی اور دھڑے بندی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر پارٹی قیادت میں موجود اختلافات حل نہ ہوئے تو آنے والے وقت میں تحریک انصاف کے لیے چیلنجزمزید بڑھ سکتے ہیں۔
