مصنوعی اکثریت والی پیپلزپارٹی سندھ پرقابض ہے،خالد مقبول

متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے، کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر کیا تقسیم ملتی ہے؟
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کل سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرار داد پیش کی گئی، پیپلز پارٹی نے یہ قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی ہے، ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔
خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں، ایک اہم موڑ پر ہم داخل ہو گئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے۔
ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور ہوئی، سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی جانب سے تمام مکاتب فکر سے سوال ہے؟ کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قرارداد منظور کرسکتا ہے، جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں؟
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے، صوبے اس کے حصے ہیں۔
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش نہیں بن سکتا۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ 170 سیٹیں لینے والا جیل میں اور 80 سیٹ لینے والا حکومت میں ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے شریک جرم ہے، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھےکیا وہ سندھودیش کےحامی ہیں؟ پیپلزپارٹی کی منافقت یہ ہےجنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حامی لیکن سندھ میں مخالف ہے۔

Back to top button