دعا کریں ایسا ہی ہو!

 

 

 

 

تحریر : انصار عباسی

بشکریہ : روزنامہ جنگ

 

جو کچھ ٹرمپ نے سوچا تھا وہ تو نہیں ہوا۔ اسرائیل کے ساتھ ایران پر حملہ کرتے وقت ٹرمپ کا خیال تھا کہ چند دنوں میں ایران کا دفاعی نظام ڈھیر ہو جائے گا اور رجیم چینج یعنی امریکا اور اسرائیل کی مرضی کی حکومت ایران کا کنٹرول سنبھال لے گی۔ ٹرمپ نے سوچا تھا کہ ایران کی حکومت کے مخالف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور یوں جو امریکا اور اسرائیل چاہتے ہیں وہ سب کچھ ہو جائے گا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ رجیم چینج تو ابھی تک کہیں نظر آ نہیں رہی۔ دوسروں کو چھوڑیں یہاں تو امریکا کی 18 انٹلیجنس ایجنسیوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جتنے مرضی بم مار لیں، جو اسلحہ چاہیں استعمال کر لیں ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن نظر نہیں آ رہی۔ ٹرمپ جو مرضی کہہ رہے ہوں دنیا بھر سے آوازیں آ رہی ہیں کہ امریکا اور اسرائیل نے ایک ایسا جوا کھیلا جس میں وہ ناکام ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ایران پر سخت ترین بمباری جاری ہے لیکن ایران کے میزائل اور ڈرون اب بھی امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیل میں کیا کچھ تباہی ہو رہی ہے اُس بارے میں وہاں سخت سنسر کی وجہ سے اطلاعات باہر نہیں آ رہیں لیکن جہاں خطے میں امریکی اہداف کو ایک ایک کر کے ایران نے کامیابی سے نشانہ بنایا تو وہاں اسرائیل کے اندر کیا ہوا ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایرانی ڈرونز نے امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام کو سخت پریشان کر دیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہُرمز کو امریکا اپنی فوجی قوت سے ایران کے کنٹرول سے چھین کر اپنے کنٹرول میں لے لے گا تا کہ تیل کی ترسیل میں خلل نہ پڑے۔ لیکن یہ بھی اب تک نہ ہو سکا بلکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کا آبنائے ہرمز میں انتظار کر رہا ہے۔ اس جنگ سے ایران کا تو جو نقصان ہوا وہ ہوا لیکن اس جنگ کے اثرات نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ باقی دنیا کو چھوڑیں، ایک ہفتہ کے دوران امریکا کے اندر بھی پٹرول کوئی 20-25 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے اربوں ڈالر اب تک اس جنگ میں خرچ ہو چکے اور جوں جوں یہ جنگ آگے بڑھتی ہے یہ اخراجات بھی بڑھیں گے اور دنیا بھر میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گا۔ امریکا و اسرائیل یقیناً یہ چاہتے تھے کہ ایران پر حملہ کے بعد ایران اور عرب ممالک کو آپس میں گتھم گتھا کرا دیا جائے جسکے یقیناً اُس وقت آثار پیدا ہو گئے جب ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور دوسرے کچھ ممالک میں امریکی اڈوں اور دوسرے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔ لیکن اچھا ہوا کہ ان میں سے کسی بھی ملک نے ایران پر جوابی حملہ نہ کیا۔ یعنی وہ اُس جال میں نہ پھنسے جو اُن کیلئے بچھایا گیا تھا۔ اور اب ایران کے صدر نے کہہ دیا ہے کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے، جب تک ان ممالک کی سر زمین سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ عبوری لیڈرشپ کونسل نے پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملہ نہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں، پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہوں۔ نہیں معلوم یہ کوئی مسلمان ممالک کے درمیان مشترکہ حکمت عملی تھی یا کچھ اور لیکن ایران نے عرب ممالک میں امریکی اڈوں اور اہداف کو خوب نقصان پہنچایا جس پر ان ممالک نے کوئی جوابی حملہ نہیں کیا اور اب ان ممالک سے ایران نے معذرت کر لی۔ بظاہر اب یہ خطرہ ٹلتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ مسلمان ممالک آپس میں جنگ چھیڑ دیں گے۔ میری دعا ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کیلئے بڑی مایوسی کا باعث ہو گا۔ اگر اُن کی مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کی سازش اُن پر الٹی پڑ جائے، خطہ میں امریکی اڈوں کا مستقبل خطرےمیں پڑ جائے، ایران میں رجیم چینج نہ ہو سکے، امریکی اور اسرائیلی خود اس جنگ کے اثرات سے متاثر ہوں تو پھر امریکا اور اسرائیل دونوں کمزور ہوں گے۔ دعا کریں ایسا ہی ہو۔

 

Back to top button