ایم کیو ایم کی کپتان کا ساتھ چھوڑنے کی تیاریاں مکمل

اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے وزیراعظم عمران خان کی سب سے بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اب حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو کر عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینے کے واضح اشارے دینا شروع کر دیے ہیں۔ قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کی سات نشستیں ہیں۔ تحریک انصاف کے ٹرول بریگیڈ کی جانب سے فوجی قیادت کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع کیے جانے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا یہ رویہ افسوسناک ہے اور ہم اسکی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے اور پاکستان کے تحفظ کا ضامن ہے لہذا اگر اسکی قیادت کے مہم چلائی جاتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ملک دشمن ایجنڈے پر عمل کیا جا رہا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایم کیو ایم نے حکومت نہیں بلکہ جمہوریت بچانے کا ذمہ لیا ہے، ہم حکومت کا حصہ اس لیے بنے تھے کہ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو جمہوریت ڈوب جاتی۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہمارے بغیر نہ تو کوئی حکومت بن سکتی ہے اور نہ ہی ختم ہو سکتی ہے، انکا کہنا تھا کہ اب وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں ہمارا امتحان آرہا ہے، لیکن ہم نے حکومت بچانے سے زیادہ جمہوریت بچانے کے لیے کردار ادا کرنا ہے جسے خود حکومت نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بہادر آباد میں جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کارکنان سے پوچھا کہ کیا ہم اچھے وقت کے لیے تیار ہیں؟ انکا کہنا تھا کہ ہم تین بڑی جماعتوں ن لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کر چکے ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ ابھی تک سلامت ہے اور اب بھی سب اسکی طرف دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب سے ماضی میں میں متحدہ قومی موومنٹ کا حصہ رہنے والے کراچی سے حکومتی جماعت کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے بھی اپنی حکومت کے خلاف آواز بلند کر دی یے۔ آرمی چیف کی تبدیلی کی افواہوں پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے عامر لیاقت حسین نے وزیر اعظم کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل شاہین یا کسی اور کو پاک فوج کا نیا سربراہ بنانے کی کوشش کی تو اس کیخلاف سب سے خطرناک آواز میری اٹھے گی۔
اپنے ویڈیو پیغام میں عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ گنڈاسے، برچھیاں، تلواریں اور تیر رکھنے والوں نے اگر انہیں آپ پر برسانا شروع کر دیا تو بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو خیر آپ نے کبھی پوچھا ہی نہیں، لیکن رہنے دیں کوئی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ نے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی لیکن اس میں بھی سب سے بڑے عاشق رسول عامر لیاقت کو نہیں پوچھا۔ لیکن میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک کام آپ مت کیجئے گا اور وہ یہ کہ لیفٹیننٹ جنرل شاہین کو کبھی آرمی چیف نہ لگائیے گا۔
پی ٹی آئی کے 27 مارچ کے جلسے کی جگہ تبدیل
عامر لیاقت حسین کا عمران خان کے نام ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ اگر جاتے جاتے آپ یہ کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کیخلاف سب سے خطرناک آواز میری اٹھے گی۔ انہون نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاک فوج کسی ایک شخص کی بات نہیں کرتی۔ پاک فوج کا پورے کا پورا ادارہ ہمارے لئے انتہائی قابل احترام ہے اور جنرل باجوہ کی جو خدمات ہیں، بلوچ رجمنٹ سے لے کر پاک فوج کا سربراہ بننے تک، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی ملک و قوم کیلئے دی گئی خدمات کو کسی صورت بھلا نہیں سکتے۔ اگر آپ نے ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل شاہین کو آرمی چیف لگایا تو پوری قوم سراپا احتجاج بن جائے گی۔
عامر لیاقت نے وزیراعظم کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میری بات کو آپ غیر جمہوری نہ سمجیھے گا، ہم نے تو آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو بھی ووٹ دیئے تھے اور آپ کو بھی ووٹ دیئے تھے۔ ہم نے اپ کو 176 اور جنرل باجوہ کو 342 ووٹ دیے تھے۔ لہذا آپ کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پارلیمنٹ میں بھی اکثریت آپ کی نہیں بلکہ ان کی ہے لہذا کوئی خطرناک حرکت کرنے کا سوچئے گا بھی نہیں ورنہ میں خود خطرناک ہو جاؤں گا۔
