27 ویں کے بعد 28ویں ترمیم کی تیاری: PPP سے پھڈے کا امکان

 

بلاول بھٹو کی اس دھمکی کے باوجود کے کسی کا باپ بھی صوبائی خودمختاری کی ضامن 18ویں آئینی ترمیم ختم نہیں کر سکتا، ملک کے اصل فیصلہ سازوں نے 28ویں ترمیم لانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جس کا مرکزی ہدف 18ویں ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ ہو گا۔ مجوزہ ترمیم کا مقصد قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ یا این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا مالی حصہ کم کرنا اور وفاق کا حصہ بڑھانا یے۔ اس کے علاوہ ملک میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے بھی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کو ختم کرنے اور صوبائی خود مختاری کم کرنے کی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں باخبر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ 26 اور27ویں آئینی ترمیم کے بعد 28ویں ترمیم کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں ۔ ان کے مطابق 28ویں ترمیم کیلئے آئین میں مجوزہ تبدیلیوں کا مسودہ پہلے سے تیار ہو چکا ہے جس کا بنیادی ہدف اٹھارویں ترمیم کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا بڑھایا گیا مالہ حصہ کم کرنا اور وفاق کا حصہ بڑھانا ہے۔ اسکے علاوہ 28 ویں ترمیم پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں اختیارات کی مقامی سطح پر تقسیم کا نیا فارمولا دے گی تاکہ لوکل باڈیز با اختیار بنایا جا سکے۔ اسکے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ 28 ترمیم کے تحت ملک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

باخبر حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے صوبائی نقشے کو از سر نو ترتیب دینے کیلئے 12 نئے صوبے بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے اور اصل فیصلہ ساز اسٹیبلشمنٹ اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتیں ملک میں نئے صوبے بنانے کے وعدے کرتی رہی ہیں لیکن ان پر عمل درامد نہیں ہو پایا۔ اب فیصلہ ساز حلقوں میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ اتنے بڑے صوبوں کو انتظامی طور پر چلانا اور کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے لہذا بھارت کے ریاستی ماڈل کو اپناتے ہوئے چھوٹے صوبے بنائے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم لانے سے تین ماہ پہلے ہی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ بات چیت شروع کر دی تھی لہٰذا 28ویں مجوزہ عینی ترمیم کے حوالے سے بھی ابتدائی مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ سازوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج پیپلز پارٹی کی قیادت کو منانا ہوگا جو کہ 18ویں آئینی ترمیم کی خالق ہے۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے وقت بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں ببانگ دہل اعلان کیا تھا کہ کسی کا باپ بھی 18ویں آئینی ترمیم ختم نہیں کر سکتا جو کہ صوبائی خود مختاری کی ضامن ہے۔ تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو کی تقریر کے بعد جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور وفاق کی بہتری کے لیے جو بھی فیصلے ہوں گے، وہ وقت آنے پر ضرور کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ اصل فیصلہ ساز 27 ویں آئینی ترمیم کے وقت ہی این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے صوبوں کا حصہ کم کرنے اور وفاق کا حصہ بڑھانا چاہتے تھے، لیکن پیپلز پارٹی کی کھلی مخالفت کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ پہلے افواج پاکستان سے متعلقہ ترامیم پاس کروا لی جائیں اور پھر 18 ویں ترمیم کے خاتمے کے لیے 28ویں ترمیم لائی جائے۔ دونوں بڑی حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے مابین 27 ویں ترمیم کے مسودے پر ڈیڈ لاک تب ہیدا ہوا تھا جب بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے موقف کے عین مطابق صوبائی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انکا موقف تھا کہ وہ صرف فیلڈ مارشل کے فوجی عہدے کو آئینی کور دینے کی حد تک ترامیم کی حمایت کریں گے۔

صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی زیر صدارت ساڑھے چار گھنٹے جاری رہنے والے سی ای سی اجلاس میں پیپلزپارٹی کے سینئر ارکان نے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ اور آئین کے آرٹیکل 160 کی شق (3-اے) پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں شریک بیشتر ارکان نے 18ویں ترمیم کی کسی بھی شق میں ردوبدل کی شدید مخالفت کی اور اسے “سیاسی خودکشی” قرار دیا۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے زور دیا کہ تعلیم اور آبادی سے متعلق اختیارات صوبوں ہی کے پاس رہنے چاہئیں اور انہیں کسی بھی صورت وفاق کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔ پارٹی کے سینئر ارکان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کو چھیڑنا وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے وفاق کو مشورہ دیا گیا کہ اس ترمیم میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے گریز کیا جائے۔

یوں پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کے علاوہ 27ویں آئینی ترمیم کے باقی تمام نکات کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ تا ہم بعد ازاں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے اصرار پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے وفاقی آئینی عدالت بنانے کے حوالے سے آئینی ترامیم کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن فیصلہ سازوں نے 27ویں آئینی ترمیم کا پل کامیابی سے پار کرنے کے بعد اب 28 ویں ترمیم لانے کا ذہن بنا لیا ہے۔

یاد رہے کہ آصف زرداری نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات اور وسائل میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جبکہ وفاق کے مالی اختیارات کم کر دیے گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت 18ویں آئینی ترمیم کو اپنا ایک کارنامہ قرار دیتی ہے چونکہ اس کے ذریعے آصف زرداری نے مشرف دور میں ترامیم کے ذریعے چھینے گے پارلیمنٹ کے اختیارات بھی اس کو واپس لوٹا دیے تھے۔ تاہم پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ نون لیگی حکومت کا موقف ہے کہ 18ویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت قومی وسائل کا تقریباً 60 فیصد حصہ منتقل ہو جاتا ہے، جب کہ وفاق کے لیے صرف 40 فیصد حصہ بچتا ہے، جو کہ دفاعی اخراجات، فوجی اور سویلین پینشن اور دیگر قومی اخراجات کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، وفاق کو اخراجات پورے کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں لہذا این ایس سی ایوارڈ پر نظرثانی ضروری ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے کے مطابق، تعلیم، آبادیاتی منصوبہ بندی اور مالی وسائل کی تقسیم جیسے اہم شعبے، جو 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے دائرہ اختیار میں آ گئے تھے، دوبارہ وفاق کے کنٹرول میں لانے کی تجویز تیار ہے۔

Back to top button