عمرانڈو پن کی وجہ سےصدر علوی پھر تنقید کی زد میں

اپنے آئینی کردار اور عہدے کھ برعکس ماضی کی طرح خود کو تحریک انصاف کا با وفا کارکن ثابت کرنے کے چکر میں سوشل میڈیا پر صدر عارف علوی ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہیں اور ان کے مخالفین ان پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وہ اپنے منصبی ذمہ داریوں کو فراموش کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی طرفداری کر کے خود کو عمرانڈو ثابت کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کے آئینی عہدے پر رہتے ہوئے انھیں سیاست نہیں کرنی چاہیے بلکہ آئینی تقاضے کے مطابق غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ صدر عارف علوی کو عمرانڈو بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو صدر کے عہدے سے استعفی دے کر ماضی کی طرح تحریک انصاف کی سیاسی کمپنی چلائیں لیکن ایوان صدر میں صدارت کر کرسی پر براجمان رہتے ہوئے سیاست میں دخل اندازی نہ کریں۔
واضح رہے کہ لاہور میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے گھر زمان پارک کے باہر منگل سے جاری پولیس اور رینجرز کے آپریشن کے دوران کارکنان اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان متعدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں جو بدھ کی دوپہر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد رکیں۔خیال رہے اسلام آباد کی ایک عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی عدم حاضری کے سبب انہیں گرفتار کرکے 18 مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔منگل کی رات کو عمران خان کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ 18 مارچ کو عدالت کے سامنے پیش ہوجائیں گے۔
ان خبروں کے درمیان صدر عارف علوی کی جانب سے بھی گذشتہ روز ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے زمان پارک میں ہونے والی کارروائی کو ’انتقامی سیاست‘ قرار دیا تھا۔انہوں نے مزید لکھا تھا کہ ’میں عمران خان کی حفاظت اور وقار کے لیے اسی طرح فکرمند ہوں جیسے دیگر سیاستدانوں کے لیے ہوں۔
بعد ازاں بدھ کو زمان پارک میں آپریشن سے متعلق ایک آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا اور میڈیا پر چلنا شروع ہوئی جس میں پی ٹی آئی کی سینیئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد اور صدر عارف علوی فون پر بات کر رہے ہیں۔اس مبینہ آڈیو ریکارڈنگ میں یاسمین راشد صدر عارف علوی کو بتا رہی ہیں کہ ’سر یہاں صورتحال بہت خراب ہوگئی ہے، پیٹرول بم پھینکنا شروع کردیے ہیں یہاں لوگوں نے۔ انہوں نے صدر عارف علوی کو کہا کہ ’اس سے پہلے کہ کوئی خون خرابہ ہوجائے میرا خیال ہے آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر عارف علوی نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو بتایا ہوکہ ’میں بات کر چکا ہوں۔‘ جس پر خاتون پی ٹی آئی رہنما نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بات کر لیتا ہوں خان صاحب سے، صدر عارف علوی نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی تمام باتیں سننے کے بعد کہا کہ ’مجھے اسد عمر سے بھی بات کر لینے دیں۔‘ اس بات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے مشورہ دیا کہ ’آپ شاہ صاحب یعنی شاہ محمود قریشی سے بھی بات کرلیں وہ خان صاحب کے ساتھ ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق صدر کی کرسی پر براجمان شخص سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا اور یہی وجہ ہے کہ صدر عارف علوی کے ناقدین ان پر سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر فتح نامی صارف نے لکھا کہ ’سیاسی جماعتیں عدالتوں میں کیوں نہیں جا رہیں کہ صدر عارف علوی براہ راست سیاست میں ملوث ہیں؟‘صدر عارف علوی کی ایک ٹویٹ پر سینیئر صحافی نصرت جاوید نے تبصرہ کیا کہ ’سر عارف علوی اگر آپ اتنے فکرمند ہیں تو فوراً زمان پارک کیوں نہیں جاتے اور سب کو ایک بڑے کی طرح پرسکون رہنے کی ہدایت دیتے۔
عمر قریشی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ صدر عارف علوی نے اس بحران میں ثالثی کروانے کی پیشکش کی ہے لیکن ان کے اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی مبینہ کال انہیں متعصب اور عمران خان کا مشیر دکھا رہی ہے، کچھ صارفین ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کو صدر عارف علوی پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ یا تو وہ کچھ کریں نہیں تو گھر چلے جائیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے حامی صدر عارف علوی کی کال مبینہ طور پر ریکارڈ کرنے پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور صدر پاکستان سے کال ریکارڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
