صدر مملکت نے جسٹس طارق جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ایوان صدر سے جاری اعلامیے کےمطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر جعلی ڈگری کیس میں نااہل قرار پانے والے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی۔
اعلامیے کے مطابق ڈی نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی تعمیل کرتےہوئے جاری کیاگیا ہے جس میں ان کی بطور جج تقرری غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں عہدہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
بعد ازاں وفاقی وزارت قانون سےبھی جسٹس طارق جہانگیری کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیاگیا،جس میں کہاگیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 15 دسمبر 2025 کے فیصلے کے مطابق صدر مملکت نے طارق محمود جہانگیری کو بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ ہٹانے کی منظوری دےدی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہاگیا کہ جسٹس طارق جہانگیری کی مذکورہ عدالت میں بطور جج تعینات کرنے کےلیے نااہلی کے فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
جعلی ڈگری والے جسٹس جہانگیری عدالتی جنگ ہار گئے
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جعلی ڈگری کیس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں جج بننے کےلیے نااہل قراردیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہاگیاکہ طارق محمود جہانگیری کو متعدد مواقع دیےگئے کہ وہ اپنا جواب اور تعلیمی اسناد پیش کریں لیکن وہ اپنا جواب اور تعلیمی اسناد پیش کرنے میں ناکام رہے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی معقول وجہ سامنے آسکی۔
فیصلے میں کہاگیا کہ طارق محمود جہانگیری جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات ہوئے تو اس وقت درست اور قابل قبول ایل ایل بی ڈگری کےحامل نہیں تھے اور بعد ازاں مستقل جج کےلیے بھی درست اور قابل قبول ایل ایل بی ڈگری کے حامل نہیں تھے۔
