صدر ٹرمپ نے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں بھی پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ لے لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت ایٹمی کشیدگی سمیت کئی ممکنہ تنازعات کو ٹالنے میں کامیابی حاصل کی۔ ٹیرف عائد کیے جانے کے باوجود متعدد ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تجارتی روابط اور معاہدے جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 35 ملین افراد کی جانیں محفوظ رہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ ان کی ٹیرف پالیسیوں نے نہ صرف عالمی سطح پر تجارتی توازن بہتر کیا بلکہ پاک بھارت کشیدگی سمیت کئی ممکنہ جنگوں کو بھی روکنے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محصولات کے نفاذ کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ ان کی کوششوں سے کروڑوں جانیں بچیں۔

ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو مستقبل میں امریکا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں، تاہم طاقت کے ذریعے امن قائم رکھنے کے حامی بھی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایرانی حکومت نے ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کیا اور کہا کہ امریکا نے ایران میں سزائے موت کے بعض واقعات رکوانے میں کردار ادا کیا۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ گزشتہ سال ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی کارروائیوں سے اس کا مبینہ ایٹمی پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ایران نے تاحال واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔

انہوں نے ٹیرف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کی سرحدیں اب تاریخ کی سب سے زیادہ محفوظ ہیں اور حالیہ مہینوں میں غیر قانونی داخلے تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کر رہی ہے اور مزید غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

معاشی امور پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دور میں مہنگائی میں واضح کمی آئی ہے، اشیائے ضروریہ خصوصاً انڈوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی، اور گزشتہ ایک سال کے دوران کھربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پہلے سے زیادہ مضبوط اور خوشحال ہو چکا ہے اور مختصر مدت میں نمایاں تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک بحران کا شکار تھا جبکہ اب امریکا عالمی سطح پر زیادہ مقبول ہے۔

ٹیکس اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریپبلکن ارکان نے ان کی ٹیکس میں کمی کی تجویز کی حمایت کی جبکہ ڈیموکریٹس نے مخالفت کی کیونکہ وہ ٹیکسوں میں اضافہ چاہتے تھے۔

Back to top button