صدر ٹرمپ ریجیم تبدیل کرائے بغیر ہی جنگ بندی کے لیے بے تاب

تاریخ گواہ ہے کہ ہر جنگ کا اختتام تباہی کے بعد مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران پر حملہ آور ہونے والا امریکہ اپنے بنیادی مقصد، یعنی ریجیم کی تبدیلی، میں ناکامی کے باوجود مذاکرات کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔
سینیئر صحافی مظہر عباس روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ جنگیں طاقت کے اظہار کے طور پر شروع کی جاتی ہیں، مگر ان کا انجام اکثر سیاسی حل کی تلاش پر ہی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ایران۔امریکہ تنازع میں بھی یہی منظرنامہ بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں عسکری برتری کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر امریکہ کو سفارتی راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔
مظہر عباس کے مطابق قوموں کی اصل طاقت ان کے اسلحے سے زیادہ ان کے اتحاد، تہذیب اور اجتماعی حوصلے میں ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی قوم ان عناصر پر قائم رہے تو اسے زیر کرنا ممکن نہیں رہتا، اور ایران نے حالیہ جنگ میں اپنی مزاحمت، استقامت اور قومی یکجہتی کے ذریعے اس حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ آج ایک بار پھر عرب دنیا اور مسلم ممالک کا امتحان ہے کہ وہ صرف جنگ بندی کی بات کرتے ہیں یا کھل کر جارح کو جارح اور ظالم کو ظالم کہنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکہ اور اسرائیل ایک بار پھر حملہ آور ہیں جبکہ نشانہ ایران ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ محض جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کی صف بندی بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اسرائیل نے غزہ میں بمباری روک دی ہے، کیا فلسطینیوں کی شہادتوں کا سلسلہ تھم گیا ہے اور کیا لبنان و بیروت ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر نہیں پہنچ چکے۔
مظہر عباس کے مطابق یہ سوالات ہر باشعور فرد کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری بالخصوص عرب و اسلامی ممالک کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ آیا وہ دنیا کو ایک ممکنہ بڑے تصادم سے بچا سکتے ہیں یا نہیں۔
سینیئر صحافی نے حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ایک ابتدائی قدم ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں آئندہ ایک سے دو ہفتے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کی جنگ بندی کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اسلامی دنیا میں ایک واحد ایٹمی طاقت کے طور پر اس کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
مظہر عباس نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک جانب اور ایران کو دوسری جانب رکھتے ہوئے اس جنگ کو طاقت اور مزاحمت کے بیانیے کے طور پر بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف سپر پاور امریکہ اور اس کی حمایت یافتہ اسرائیل ہے جبکہ دوسری جانب ایران ہے جس کی قیادت، بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، نے جان کی قربانیاں دے کر ریجیم چینج کا منصوبہ ناکام بنایا اور ثابت کیا کہ عزم کی بنیاد پر کی جانے والی مزاحمت کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے اس جنگ کو 1973 کی عرب اسرائیل جنگ 1973 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ تب پہلی بار عرب دنیا کو تیل کی طاقت کا ادراک ہوا تھا اور انہوں نے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت کو پہچانا۔ اسی تناظر میں 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور 1974 منعقد ہوئی جس میں 38 اسلامی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی اور ایک مضبوط اسلامی بلاک کی بنیاد رکھی گئی۔ اس بلاک کی قیادت اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پاس آئی۔
مظہر عباس نے کہا کہ اسی کانفرنس میں پہلی بار فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم اور فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا، جسے امریکہ اور اسرائیل نے ناپسند کیا جبکہ سوویت یونین نے اس کا خیر مقدم کیا۔ تاہم اس کامیابی کے فوراً بعد ایک ایسی سازش کا آغاز ہوا جس کے تحت اس بلاک میں شامل متحرک رہنماؤں کو یا تو ختم کیا گیا یا ان کے خلاف رجیم چینج کی کوششیں کی گئیں، اور پاکستان اس کا نمایاں شکار بنا۔ مظہر عباس کے مطابق پاکستان میں ایک منتخب حکومت کو اس وقت ختم کیا گیا جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابات پر اتفاق ہو چکا تھا، اور بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دے دی گئی، حالانکہ تقریباً تمام اہم اسلامی اور عرب رہنماؤں نے ان کی سزا کے خلاف اپیلیں کی تھیں۔ ان کے بقول بھٹو کی پھانسی کے ساتھ ہی ایک مضبوط اسلامی بلاک کی تشکیل کی کوششیں بھی کمزور پڑتی چلی گئیں۔
انہوں نے اپنے ایک ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چند سال قبل انہوں نے ایک امریکی سفارتکار کا انٹرویو کیا تھا جس نے ہنری کسنجر اور بھٹو کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات کو سنا تھا، جس میں بھٹو کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام ترک نہ کیا تو انہیں نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکہ کو صرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہی تشویش نہیں تھی بلکہ وہ پاکستان کے غیر جانبدار تحریک اور تیسری دنیا کے اتحاد کی طرف جھکاؤ سے بھی پریشان تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی سفر تھا جو بالآخر 4 اپریل 1979 کو بھٹو کی پھانسی پر منتج ہوا۔
مظہر عباس کے مطابق بھٹو ایک تاریخ دان ذہن رکھتے تھے۔ انہوں نے دوران قید لکھی گئی اپنی کتاب "اگر مجھے قتل کیا گیا” میں اسلامی دنیا کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل اور بھارت کی ایٹمی صلاحیت کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پاکستان بھی اس سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ کی دلدل سے نکلنے کا فیصلہ کیوں کر لیا؟
مظہر عباس نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں دنیا نے دیکھا کہ وہ تمام ممالک نشانہ بنے جو فلسطینی کاز کے حامی تھے۔ عراق، لیبیا، شام اور لبنان کو اس بنیاد پر تباہ کیا گیا کہ وہ خطرناک ہتھیار تیار کر رہے تھے، حالانکہ بعد میں یہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔ اب اسی تسلسل میں ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1980 میں افغانستان میں سوویت مداخلت کے بعد پاکستان امریکہ کے لیے ناگزیر بن گیا، جس کے نتیجے میں اسے نہ صرف مالی امداد ملی بلکہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنے میں بھی کامیاب رہا اور بالآخر 1998 میں ایٹمی طاقت بن گیا۔ مظہر عباس نے موجودہ صورتحال میں غزہ میں جاری مظالم پر عرب اور اسلامی ممالک کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسی خاموشی نے امریکہ کی پشت پناہی میں اسرائیل کو ایران پر حملے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جواب نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو حیران کر دیا اور اس کی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا امریکہ اور ایران مذاکرات پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں، اور اگر ہوتے ہیں تو کن شرائط پر۔ مزید یہ کہ آیا امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہوں گے، کیونکہ ماضی میں غزہ کے حوالے سے ہونے والے تجربات زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔
