نِپاہ وائرس سے بچائو کی احتیاطی تدابیر

نِپاہ وائرس (Nipah Virus) ایک مہلک اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے جو انسانی زندگی کے لیے شدید خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔، لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس کے خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ وائرس سب سے پہلے 1998 میں ملائیشیا میں دریافت ہوا تھا اور اب مختلف ممالک میں اس کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی اقدامات انتہائی ضروری ہیں کیونکہ اس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے۔
نِپاہ وائرس انسان اور جانور دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر پھیپھڑوں اور دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے اور انفیکشن کی صورت میں مریض میں بخار، سر درد، کھانسی، سانس لینے میں دشواری، تھکن اور بعض اوقات الجھن یا ہوش کھونے جیسے علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ وائرس نہ صرف جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے بلکہ آسانی سے انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
نپاہ وائرس،محکمہ صحت سندھ نے ایڈوائزری جاری کردی
نِپاہ وائرس سے بچاؤ کے لیے چند احتیاطی اقدامات انتہائی اہم ہیں
متاثرہ جانوروں اور چمگادڑوں کے ساتھ براہِ راست رابطے سے گریز کریں۔کھانے پینے کی اشیاء خصوصاً پھل اور جوس کو اچھی طرح دھو کر یا پکا کر استعمال کریں۔
اگر کوئی شخص وائرس کا شکار ہو جائے تو اس کے ساتھ براہِ راست رابطے سے گریز کریں اور فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔اسپتالوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ وائرس انسان سے انسان میں نہ پھیلے۔
نپاہ وائرس کی پاکستان منتقلی کا خدشہ،ایئرپورٹس پرسکریننگ
یاد رہے کہ بھارت کے ویسٹ بنگال میں تصدیق شدہ کیسز کے بعد تھائی لینڈ اور ملیشیا نے ایئرپورٹس پر مسافروں کی سخت جانچ شروع کر دی ہے جبکہ پاکستان نے بھی تمام داخلی راستوں پر سخت صحتی نگرانی کا حکم دے دیا ہے۔
