کیا پیٹرول کی قیمت 300 روپے سے نیچے آنے والی ہے؟

عالمی مارکیٹس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافے کے بعد پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کےدام بارہ ڈالرفی بیرل تک گر گئے۔گلف مارکیٹس میں پٹرولیم مصنوعات 88 ڈالرفی بیرل پرآگئیں۔عالمی مارکیٹ میں قیمتیں 84 ڈالرفی بیرل کی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آنے والے جائزے میں کم ہو کر 300 روپے سے نیچے آنے کا امکان پیدا ہو گئے ہیں،
ذرائع کے مطابق ڈیزل کی قیمت 20 روپے اور پیٹرول کی 38 روپے تک فی لیٹر کی متوقع کمی سے ایندھن کی قیمتوں میں ایک ساتھ نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔تاہم، نگران حکومت خاص طور پر ڈیزل کے حوالے سے اس کے برعکس فیصلہ بھی کر سکتی ہے، کیونکہ ڈیزل پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 50 روپے فی لیٹر عائد ہے، جبکہ اس مد میں پیٹرول پر فی لیٹر 60 روپے لیے جا رہے ہیں۔
اگر حکومت 15 اکتوبر کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرتی ہے، تو یہ نگران حکومت کی طرف سے مسلسل دوسری بار قیمتوں میں کمی ہو گی، جبکہ اس سے قبل حکومت کی طرف سے مسلسل تین بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔15 اگست سے 15 ستمبر کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 58 روپے 43 پیسے اور 55 روپے 83 پیسے اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی قیمتیں 331 سے 333 روپے فی لیٹر کی تاریخی بُلند سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
حکومت اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر 82 روپے ٹیکس اور ڈیزل پر 73 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 60 روپے اور ڈیزل، ہائی آکٹین اور رون 95 پیٹرول پر 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں یکم ستمبر سے 300 روپے سے زائد ہیں، بجلی اور ایندھن کی قیمتوں کے سبب ستمبر میں مہنگائی 31.4 فیصد تک پہنچ گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع کمی کے سبب مہنگائی کے بڑھتے رجحان میں کمی ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت موجودہ ٹیکسز کی شرح کی بنیاد پر پٹرول کی فی لیٹر قیمت 36 سے 38 روپے کم ہوسکتی ہے کیونکہ تیل کی عالمی قیمتیں 99 ڈالر فی بیرل سے 12 فیصد کم ہو کر 87 ڈالر پر آ گئی ہیں اس کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 4 فیصد بہتری ہوئی۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 12 ڈالر فی بیرل کی کمی ہوئی ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے اور ڈالر کی قیمت 292 روپے سے کم ہو کر ستمبر کے آخر میں 280 روپے پر آگئی ہے، یعنی ڈالر کی قدر میں 12 روپے سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔تاہم، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے درآمدی کارگوز کو محفوظ بنانے کے لیے ادا کیے جانے والے پیٹرول پریمیم 15 ڈالر سے معمولی بڑھ کر 16.7 ڈالر فی بیرل تک چلا گیا۔ان تمام عناصر میں تبدیلی کو دیکھا جائے تو ایکس ریفائنری پیٹرول کی قیمت تقریباً 38 روپے فی لیٹر کم ہوسکتی ہے، اور ایکس ڈپو قیمت اگلے پندرہ روز یعنی اکتوبر16 تا 31 اکتوبر تقریباً 286 روپے فی لیٹر تک کم ہوسکتی ہے۔روپے کی قدر میں بڑے اضافے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی سے امکانات واضح ہو گئے ہیں کہ 15 اکتوبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 35 سے 38 روپے کی کمی کی جائے گی، تاہم پٹرول کی قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ اوگرا کی سمری کے بعد وزارت خزانہ کرے گی۔حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں 30 روپے یا اس سے زائد کی کمی ممکن نہیں ہے
