دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پاک-امریکہ تعاون پراتفاق ، اعلامیہ جاری

امریکا اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات ایک اور اہم مرحلے میں داخل ہو گئے، جب وائٹ ہاؤس میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ایک خوشگوار اور بامعنی ملاقات ہوئی جس نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پُرجوش استقبال کیا۔ ملاقات وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں خوشگوار ماحول میں ہوئی جو تقریباً ایک گھنٹہ 20 منٹ جاری رہی۔ اس اہم ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔

وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق اس موقع پر علاقائی سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی میں باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے امریکی صدر سے پاکستان امریکا تجارتی معاہدے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

مزید برآں، امریکی کمپنیوں کے لیے زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیش کیے گئے۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں دوطرفہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے اور یہ تعاون دونوں ملکوں کے مفاد میں ہوگا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی قیادت، جرات اور فیصلوں کو سراہا اور کہا کہ ان کی مخلصانہ کوششوں سے دنیا بھر، بالخصوص غزہ میں، امن قائم کرنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر کی ثالثی کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، جس سے پورا خطہ بڑے المیے سے محفوظ رہا۔

مزید برآں، وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کے اعتراف اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی امریکی کوششوں کو بھی سراہا۔

Back to top button