وزیراعظم نے قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری دیدی

وزیراعظم شہبازشریف نے معاشی صورتحال،توانائی بحران کے باعث صوبوں اور وفاق کے درمیان اتفاق رائے سے قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری دیدی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری کے لیے اجلاس ہوا، اجلاس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کو بھی مدعو کیا گیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت مشاورت اجلاس میں اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، اویس لغاری، علی پرویز ملک، عطا اللّٰہ تارڑ، مصدق مسعود ملک اور ہارون اختر نے شرکت کی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کو عالمی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، سرکاری سطح پر کفایت شعاری اقدامات پر بریفنگ دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک کی مجموعی انتظامی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، صوبوں اور وفاق کے درمیان اتفاق رائے سے قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری دی دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا گیا، بڑے فیصلے کیے گئے۔
وفاقی کابینہ نے کفایت شعاری اقدامات کرتے ہوئے 2 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مستحق اور غریب شہریوں کو ریلیف دینے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پرحتمی لائحہ عمل طے کیا گیا۔
خلیج میں جاری جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں۔
اجلاس کے دوران موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں معاشی استحکام کےلیے بروقت اقدامات ناگزیر قرار دے دیے گئے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ مشکل صورتحال میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو خصوصی ہدایات جاری کردیں۔
وزیراعظم نے وسائل کے موثر استعمال اور عوام کو ریلیف فراہمی کےلیے مشترکہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی تلقین کی۔
کفایت شعاری اور بچت سے متعلق ہدایات صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہ کرنے کا پلان بنالیا۔
