وزیراعظم نے گوادر اور گلگت بلتستان کے بجلی منصوبوں کی منظوری دے دی

وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی سے متعلق متعدد منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی کے مسائل کے حل کے لیے تیار کردہ جامع منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ وزارتِ توانائی کے اقدامات کے نتیجے میں گوادر میں بجلی کی فراہمی میں ہونے والا تعطل 42 فیصد تک کم ہو چکا ہے۔ آئندہ چھ ماہ میں وولٹیج کے استحکام کے لیے بھی ایک مکمل منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جب کہ گھریلو و تجارتی صارفین کے لیے بجلی کی مستحکم فراہمی یقینی بنانے پر کام جاری ہے۔
مزید بتایا گیا کہ قلیل مدتی منصوبوں کے تحت آئندہ 8 سے 12 ماہ میں بڑے سرکاری اداروں میں 9.7 میگاواٹ کے سولر سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ طویل المدتی منصوبے کے تحت گوادر میں 40 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا منصوبہ لگایا جائے گا تاکہ شہر کو پائیدار بجلی فراہم کی جا سکے۔
گلگت بلتستان میں چھتوں اور یوٹیلیٹی سطح کے سولر منصوبوں کی تکمیل 2027 تک متوقع ہے، جبکہ گلگت بلتستان حکومت اور وزارت توانائی کے مشترکہ منصوبوں سے سالانہ ایک ارب روپے کی بچت ہوگی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گوادر پورٹ سٹی میں قابل اعتماد، مناسب قیمت اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ 100 میگاواٹ کے سولر منصوبے سے گلگت بلتستان میں ماحول دوست اور مستحکم بجلی کی فراہمی ممکن ہوگی، اس لیے اس پر فوری عملدرآمد شروع کیا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی بہبود اور خطے کی معاشی ترقی وفاقی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور اقتصادی استحکام کے لیے وہاں ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوادر میں بجلی کی مستقل فراہمی اور دیگر سہولیات کی فراہمی سے گوادر بندرگاہ مستقبل میں دنیا کی بہترین بندرگاہوں اور اقتصادی سرگرمیوں کے اہم مرکز کے طور پر ابھرے گی۔
