وزیراعظم کا آئندہ بجٹ میں براہِ راست ٹیکس کم کرنے کا عندیہ

وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ وفاقی بجٹ میں براہِ راست ٹیکسوں میں کمی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم 2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں معیشت کو سہارا دینے اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنے کے لیے براہِ راست ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کو یقین ہونا چاہیے کہ ضرورت سے زیادہ ٹیکسوں کے باعث ان کا سرمایہ متاثر نہیں ہوگا۔
شہبازشریف نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ صارفین سے وصول کیے جانے والے بالواسطہ ٹیکس حکومت کے خزانے میں جمع نہیں ہو رہے، جو قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔
وزیراعظم نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف اقدامات کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تاہم اب توجہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے آئندہ بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں میں بھی کمی کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے کہا کہ جون 2023 میں پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا، مگر مشترکہ کاوشوں سے دو برسوں میں معاشی صورتحال مستحکم کی گئی۔ ان کے مطابق مہنگائی جو 35 فیصد کے قریب تھی، اسے کم کرکے 7 فیصد سے نیچے لایا گیا جبکہ پالیسی ریٹ 10.5 فیصد تک آچکا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ بعض اصلاحات حکومت کی اپنی ضرورت کے تحت کی گئیں اور ان میں آئی ایم ایف کا کوئی کردار نہیں تھا۔ بجلی کے شعبے میں فی یونٹ قیمت میں 9 روپے کمی کی گئی جبکہ سولر سرمایہ کاری کو بھی تحفظ دیا گیا۔ انہوں نے بجلی چوری سے سالانہ 200 ارب روپے کے نقصان پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط حکومتی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
