وزیراعظم کی باغی اراکین کے لئے گاجر اور ڈنڈے کی پالیسی

وزیر اعظم عمران خان کو ان کے انٹیلی جنس ذرائع نے آگاہ کیا تھا کہ ان کی جماعت کے ایک درجن سے زائد اراکین قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد کے روز اپوزیشن کا ساتھ دے سکتے ہیں، چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ووٹنگ کے روز تحریک انصاف کے اراکین کو اسمبلی اجلاس میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ وہ اپوزیشن کا ساتھ نہ دے پائیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کی وارننگ کے بعد وزیراعظم نے گاجر کھلانے اور ڈنڈا دلانے کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ایک طرف تو ناراض اراکین اسمبلی کو منانے کی کوششوں کا آغاز کیا جبکہ دوسری طرف وہ اراکین جنہیں مسلم لیگ نواز نے اگلے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔
ان کو ڈرانے کے عمل کا آغاز کیا گیا۔ تاہم چونکہ حکومت کی جانب سے رابطہ کرنے پر کسی بھی پی ٹی آئی ایم این اے نے اپوزیشن کے ساتھ جانے کی تصدیق نہیں کی تھی چنانچہ ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ لہذا کپتان کے پاس واحد راستہ یہی تھا کہ ووٹنگ والے دن وہ پی ٹی آئی کے کسی بھی منتخب رکن کو اجلاس میں شریک نہ ہونے دیں۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا اور پی ٹی آئی کے جن اراکین نے عمران کے خلاف ووٹ ڈالنے کی یقین دہانی کروائی ہے وہ ہر صورت اسمبلی اجلاس میں پہنچیں گے کیونکہ ان کے ساتھ کئے گئے وعدے ان کے ووٹ سے مشروط ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز پہلے وہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر طاقت کا مظاہرہ کریں گے تاکہ اپنے ممکنہ منحرف اراکین پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب گیم کپتان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور میںچ آخری اوور میں داخل ہو چکا ہے۔ اپوزیشن قیادت اپنی نمبرز گیم پوری کرنے کے باوجود معاملات نہایت خفیہ رکھ رہی ہے تاکہ وزیراعظم کاؤنٹر سٹریٹجی تیار نہ کر پائیں۔ دوسری جانب کپتان کی اتحادی جماعتیں بھی اپوزیشن قیادت کے ساتھ معاملات تقریبا فائنل کر چکی ہیں لیکن اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کا اعلان مناسب وقت پر کریں گی۔ اسی طرح حکومتی جماعت کے اراکین بھی نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے معاملات طے کر چکے ہیں اور اجلاس والے دن سامنے آئیں گے۔ اپوزیشن کی بنیادی اسٹریٹیجی یہی ہے کہ تمام معاملات کو آخری وقت تک نہایت خفیہ انداز میں آگے بڑھایا جائے تاکہ کہ کوئی مسئلہ درپیش نہ آئے۔
اسی دوران قاف لیگ کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر آبی وسائل چوہدری مونس الٰہی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو 14 مارچ کے روز ہونے والی ملاقات میں بتادیا تھا کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین قومی اسمبلی نے انکے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مونس الٰہی نے بتایا کہ اس ملاقات میں وفاقی وزیر اسد عمر بھی موجود تھے جس کی خبر میڈیا میں آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اس دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم میں جانتا ہوں پی ٹی آئی کے سات/آٹھ ایم این ایز ہیں جنہوں نے اپوزیشن کی طرف جانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ لیکن مونس کا کہنا ہے کہ میں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ان کے باغی اراکین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
وفاقی کابینہ کا مسلسل چوتھا اجلاس ملتوی
ان کے مطابق میں نے عمران خان کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان اراکین کو مسلم لیگ نواز کی جانب سے حمایت کے بدلے اگلے الیکشن میں ٹکٹوں کے وعدے ملے ہیں۔ مونس الٰہی نے کہا کہ عمران خان کا موقف تھا کہ ان کے ایم این ایز کو رشوت دی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد وزیر اعظم کو بدلتی صورتحال سے خبردار کرنا تھا۔ مونس الٰہی نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اراکین کو حتمی طور پر بتائیں کہ انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن وفاقی وزیر کے بقول انہوں نے محسوس کیا کہ انکے نقطہ نظر کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا بلکہ اس کا مذاق اڑایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پی ٹی آئی کی صفوں سے علیحدگی کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات تھیں لیکن حکمران جماعت کی جانب سے ان کی وارننگ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
دوسری جانب اپوزیشن ذرائع کا دعوی ہے کہ قاف لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم وزیراعظم کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی ہیں اور حتمی اعلان تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی تاریخ سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا، تام اس دوران منصوبے کے تحت کپتان کی اتحادی جماعتیں ان کے ساتھ بھی مذاکرات جاری رکھ
