وزیراعظم سٹیزن پورٹل دو ماہ سے بند، شہری پریشان

پاکستان میں عوامی شکایات کے اندراج اور سرکاری اداروں سے رابطے کے لیے قائم کیا گیا وزیراعظم سٹیزن پورٹل گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس کے باعث ہزاروں شہریوں کو شکایات درج کرانے اور سابقہ کیسز کا اسٹیٹس دیکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اس مسئلے کے باعث متعدد صارفین ایپلیکیشن استعمال نہیں کر پا رہے، جب کہ کچھ کو مسلسل یہی پیغام موصول ہو رہا ہے کہ "سسٹم ضروری مرمت کے عمل سے گزر رہا ہے، بعد میں کوشش کریں۔”

کراچی سے تعلق رکھنے والے شہری معراج خالد، جو کئی برسوں سے اس پلیٹ فارم کا باقاعدہ استعمال کر رہے ہیں، نے بتایا کہ ایپ دو ماہ سے غیر فعال ہے اور یہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔

"میں یہ جاننے سے قاصر ہوں کہ آیا حکومت نے ایپ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے یا یہ واقعی کسی اپگریڈیشن کا حصہ ہے،” — معراج خالد

اسی طرح ایک اور صارف محمد آصف نے شکایت کی کہ وہ نہ صرف ایپ کھولنے میں ناکام رہے بلکہ اپنی ٹریکنگ آئی ڈی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔

"میں نے ای میل کے ذریعے معلومات لینے کی کوشش کی لیکن وہاں سے بھی کوئی جواب نہ آیا،” — محمد آصف

پورٹل کی ویب سائٹ کے مطابق وزیراعظم پرفارمنس ڈیلیوری یونٹ (PMDU) کے تحت چلنے والا یہ نظام عوامی شکایات کے فوری اور شفاف ازالے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، جس میں صارفین کسی بھی وقت بغیر کسی سفارش کے آن لائن شکایات درج کرا سکتے تھے، جنہیں ریئل ٹائم میں ٹریک بھی کیا جا سکتا تھا۔

ڈائریکٹر جمشید محمود کی سزا معطل، سندھ ہائیکورٹ نے ضمانت منظور کرلی

 

یہ سسٹم سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس وقت اسے شہریوں اور اوورسیز پاکستانیوں دونوں میں بے حد پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔

اس نمائندے نے جب سٹیزن پورٹل کی ہیلپ لائن 051-9000111 پر رابطہ کیا تو ایک نمائندے نے تصدیق کی کہ ایپ گزشتہ دو ماہ سے مسائل کا شکار ہے۔

نمائندے کے مطابق "یہ مسئلہ سسٹم اپگریڈیشن کے باعث ہے، کچھ صارفین کو ایپ تک رسائی حاصل ہے، جب کہ کچھ مکمل طور پر لاک آؤٹ ہو چکے ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ پورٹل مکمل طور پر بند نہیں ہوا، اور کچھ صارفین اب بھی شکایات کی حیثیت چیک کر پا رہے ہیں۔ تاہم بیشتر افراد کو رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔

نمائندے کے مطابق "ہمیں توقع ہے کہ اگلے ایک ہفتے یا کچھ دنوں میں مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا۔”

 

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ صارفین اگر اپنا ٹریکنگ نمبر ای میل کے ذریعے بھیجیں، تو متعلقہ محکمہ ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔ البتہ، چونکہ بہت سے صارفین ایپ کھول ہی نہیں پا رہے، اس لیے انہیں ٹریکنگ نمبر تک رسائی بھی ممکن نہیں۔

Back to top button