یورپی پروازوں پر پابندی ہٹنے سے PIA کی نجکاری آسان ہونے کا امکان

عمران خان دور حکومت میں وزیر ہوا بازی کی ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے نتیجے میں یورپ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد ہونے سے پاکستان کو پچھلے ساڑھے چار برس میں 200 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا، تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ اب یورپ کے لیے پی آئی اے کی پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ پی آئی اے سے پابندی ایک ایسے وقت میں ختم ہوئی جب پاکستانی حکومت اس کی نجکاری کے لیے کوشاں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندی اٹھنے کے بعد پی آئی اے کی نجکاری اچھے داموں پر کرنا اسان ہو جائے گا۔
19 نومبر کو ساڑھے چار سال کی پابندی کے خاتمے کے بعد پاکستان کی قومی ائیر لائن ’پی آئی اے‘ کی پہلی پرواز نے یورپ فرانس کے لیے اڑان بھری۔ فلائیٹ 330 مسافروں اور عملے کے 14 اراکین کو لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی۔ یاد رہے کہ ساڑھے چار سال قبل یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے سمیت نجی فضائی کمپنیوں پر یورپ میں فلائٹ آپریشن پر پابندی عائد کر دی تھی۔
تاہم 29 نومبر 2024 کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی نے شہباز حکومت کی کاوشوں کے نتیجے میں اس پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔
اس فیصلے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ’یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپ جانے والی پروازوں پر سے پابندی ہٹا دی ہے۔ یہی نہیں بلکہ دوسری پاکستانی ایئر لائن، ایئر بلیو لمیٹڈ کو بھی یورپ کے لیے فلائٹ آپریشن کی اجازت دے دی گئی ہے۔‘ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ سب موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت ممکن ہو پایا ہے۔
یاد رہے کہ جون 2020 میں اُس وقت کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں دعوی کیا تھا کہ کمرشل پائلٹس کی ایک بڑی تعداد نے ’مشکوک لائسنس‘ حاصل کر رکھے ہیں۔ اس بیان کے نتیجے میں جنم لینے والے تنازعے اور بحث و مباحثے کے بعد یکم جولائی 2020 کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو چھ ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کر دیا تھا، بعد ازاں آٹھ اپریل 2021 کو یورپین یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر سفری پابندیوں میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی تھی۔
واضح رہے کہ یورپی یونین کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والی تمام کمرشل اور چارٹرڈ پروازوں کو ایئر سیفٹی ایجنسی کی اجازت حاصل کرنا لازمی ہوتی ہے۔ اس ایجنسی 2016 نے اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ یورپی ممالک میں چلنے والے تمام جہاز انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے حفاظتی معیارات کے مطابق ہوں۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق یکم جولائی 2020 سے لگنے والی پابندی ہٹائے جانے کے بعد اب امید ہے کہ آگے چل کر برطانیہ کے لیے بھی فلائٹ آپریشن کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کو اب براہ راست ان ممالک میں جانے کا موقع ملے گا اور وہ مہنگے ٹکٹس اور متبادل فلائٹس کے جھنجھٹ سے بچ جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پابندی کے اطلاق سے قبل پی آئی اے کی سالانہ آمدن میں یورپ اور امریکہ کا حصہ 37 فیصد بنتا تھا ۔ ہم پابندی عائد ہونے سے قبل اپنی آمدن کا 37 فیصد حصہ یعنی تقریباً 42 ارب روپے سالانہ یورپ اور امریکہ کے فلائیٹ آپریشنز سے حاصل کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر اس حساب سے ہم چار، ساڑھے چار سال کا عرصہ لگائیں اور اس میں مہنگائی اور افراط زر اور مارکیٹ گروتھ کا تخمینہ شامل نہ بھی کریں تو یہ رقم لگ بھگ 200 ارب روپے کے قریب بنتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یعنی ان ساڑھے چار برسوں کے دوران پی آئی اے کو تقریباً 200 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پابندی کے فیصلے کے باعث پی آئی اے کی جو ساکھ مجروح ہوئی ہے اس کا تو کوئی حساب نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ یہ ناقابل تلافی نقصان تھا۔ تاہم جہاں تک مسافروں کے اعتماد کی بحالی کی بات ہے تو اس میں اچھی بات یہ ہے کہ پی آئی اے نے دنیا کے سب سے بہترین ریگولیٹرز کی سب سے سخت شرائط کو پورا کر کے یہ اجازت نامہ دوبارہ حاصل کیا ہے۔ اس سے پی آئی اے کی ساکھ اور مسافروں کا اعتماد بحال کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یقیناً اب پروازوں کی یورپی روٹس پر بحالی کے بعد آپ پہلے دن سے وہ آمدن حاصل نہیں کر سکتے لیکن پی آئی اے نے یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ اگلے ایک سے ڈیڑھ سال کے عرصے میں ہم کم از کم اس سطح یا مقام پر پہنچ جائیں جہاں پابندی کے اطلاق سے پہلے تھے۔‘
اچھی بات یہ ہے کہ پی آئی اے سے پابندی ایک ایسے وقت میں ختم ہوئی جب پاکستانی حکومت اس کی نجکاری کے لیے کوشاں ہے لیکن اس کے لیے صرف ایک نجی کمپنی نے محض 10 ارب روپے کی بولی لگائی تھی جبکہ پاکستان کے نجکاری کمیشن کی جانب سے اس کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے رکھی گئی تھی۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت پاکستان کو اپنے خسارے میں چلنے والے چند قومی اداروں کی نجکاری کرنا ہے۔ پی آئی اے گذشتہ کئی برسوں سے خسارے کا شکار ہے اور اس کا شمار حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ان اداروں میں ہوتا ہے جو قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں۔
کیا امریکہ عمران کی مدد سے ہمارا نیوکلیئر پروگرام ٹارگٹ کر رہا ہے
وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں پی آئی اے سے پابندی ہٹنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس فیصلے کے بعد قومی ایئر لائنز کی نجکاری کے عمل میں بھی فائدہ ہو گا۔ ان کے مطابق پی آئی اے پر عائد پابندی ہٹنے سے اب کوئی بڑا سرمایہ کار بھی قومی ایئر لائنز خریدنے میں دلچسپی لے سکتا ہے۔
