بنگلہ دیش میں پرو پاکستان جماعت اسلامی اور طلبہ کا اتحاد

بنگلہ دیش میں فروری کے عام انتخابات سے قبل جماعتِ اسلامی اور طلبا تحریک سے ابھرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی کے درمیان قائم ہونے والا انتخابی اتحاد نہ صرف ڈھاکہ کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے دہلی میں مولوی سرکار کی جانب سے بھی گہری تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کا خیال ہے کہ یہ اتحاد اگر اقتدار یا فیصلہ کن سیاسی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کے اثرات بنگلہ دیش کی داخلی سیاست سے نکل کر براہِ راست بھارت کی سلامتی، علاقائی استحکام اور دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو پاکستان نواز سمجھا جاتا ہے۔

بھارتی تشویش کی ایک اور بڑی وجہ بنگلہ دیش میں قائم ہونے والے سیاسی اتحاد کا کھلا انڈیا مخالف بیانیہ ہے۔ یاد رہے کہ نیشنل سٹیزن پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما نہ صرف مودی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں بلکہ بعض بیانات کو نئی دہلی میں براہِ راست دھمکی کے طور پر لیا گیا ہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی کے چیف آرگنائزر حسنات عبداللہ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کرنے کی صورت میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں، جنہیں ’سیون سسٹرز‘ کہا جاتا ہے، ٹوٹ سکتی ہیں، یہ بیان بھارت کے سٹریٹجک اداروں میں شدید اضطراب کا باعث بنا تھا۔ اسی تناظر میں ڈھاکہ میں بھارت کے ہائی کمشنر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا، جس کی وجہ بھارت کی جانب سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو پناہ دینا بتائی گئی۔

بنگلہ دیشی سیاست میں اس وقت واضح تضادات اور ڈبل سٹینڈرڈز نظر آ رہے ہیں۔ ایک طرف شیخ حسینہ واجد بھارت میں موجود ہیں، حالانکہ بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے، مگر اس کے باوجود بھارت نہ صرف انہیں پناہ دیے ہوئے ہے بلکہ انہیں ایک سیاسی کارڈ کے طور پر بھی استعمال جا رہا ہے۔ دوسری طرف ان کی سب سے بڑی سیاسی مخالف خالدہ ضیا کی حالیہ وفات اور طلبا تحریک کے سب سے نمایاں رہنما کے قتل کے بعد وہ اینٹی حسینہ واجد سیاسی محاذ، جو جولائی 2024 میں مضبوط دکھائی دیتا تھا، بتدریج کمزور پڑ گیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اسی کمزوری نے ایک نیا سیاسی خلا پیدا کیا، جسے پُر کرنے کے لیے جماعتِ اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی کو فروری کے انتخابات سے پہلے قریب لایا گیا۔ مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر اتنی نشستیں حاصل کر سکیں کہ انتخابات کے بعد اتحادی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جا سکے۔ اس اتحاد کے پیچھے یہ سوچ بھی کارفرما سمجھی جا رہی ہے کہ اگر اینٹی حسینہ واجد جذبات کو منظم نہ کیا گیا تو عوامی لیگ کے کمزور ہونے کے باوجود کوئی واضح متبادل سامنے نہیں آ سکے گا۔

یاد رہے کہ نیشنل سٹیزن پارٹی وہ جماعت ہے جس کی قیادت وہ طلبا رہنما کر رہے ہیں جنہوں نے جولائی 2024 میں شیخ حسینہ واجد کو اقتدار سے ہٹانے والی تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ فروری 2025 میں قائم ہونے والی اس جماعت نے ابتدا میں متبادل سیاست، شفاف طرزِ حکمرانی اور اصلاحات کا نعرہ لگایا تھا، تاہم ناقدین شروع دن سے اسے جماعتِ اسلامی کے قریب تصور کرتے رہے۔ اب جماعتِ اسلامی کے ساتھ باضابطہ انتخابی اتحاد نے اس تاثر کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ نیشنل سٹیزن پارٹی دراصل جماعتِ اسلامی کی ’بی ٹیم‘ کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ اتحاد اس لیے بھی متنازع سمجھا جا رہا ہے کہ جماعتِ اسلامی نے 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت کی تھی اور پاکستانی فوج ساتھ دیا تھا۔

ناقدین کے مطابق ایک ایسی طلبا تحریک، جو خود کو آزادی، جمہوریت اور عوامی حقوق کی علامت قرار دیتی تھی، کا اسی جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کرنا بنگلہ دیشی سیاست کے نظریاتی تضادات کو بے نقاب کرتا ہے۔ بھارتی سٹریٹجک امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح شیخ حسینہ حکومت کے خلاف تحریک کے دوران جماعتِ اسلامی کے طلبا ونگ نے سڑکوں پر طاقت فراہم کی، اب اسی نیٹ ورک کو نیشنل سٹیزن پارٹی کے ذریعے سیاسی شکل دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق فروری کے انتخابات اب ایسے دو بڑے اتحادوں کے درمیان مقابلہ بن چکے ہیں، جن دونوں میں اسلامی قوتوں کا جھکاؤ نمایاں ہے، جبکہ عوامی لیگ پر پابندی کے بعد ملک میں کوئی بڑی سیکولر سیاسی قوت انتخابی میدان میں موجود نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیشنل سٹیزن پارٹی کے اندر بھی جماعت اسلامی سے سیاسی اتحاد پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ مرکزی کمیٹی کے کئی رہنماؤں نے جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

طلبا تحریک کے سابق کوآرڈینیٹر عبدالقادر نے اس فیصلے کو نوجوانوں کی سیاست کے ساتھ غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی امنگوں کو چند رہنماؤں کے سیاسی مفاد کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی این سی پی پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے ہی جماعتِ اسلامی کے کیمپ میں ضم ہوتی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس اتحاد سے جماعتِ اسلامی کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ ایک طویل عرصے سے شریعت پر مبنی جماعت کے طور پر پہچانی جانے والی جماعتِ اسلامی نیشنل سٹیزن پارٹی کے نوجوان، شہری اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے ذریعے اپنی شبیہ نرم اور نسبتاً معتدل بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جماعت اسلامی انتخابات نہ بھی جیت سکی تو نیشنل سٹیزن پارٹی کی موجودگی اسے مضبوط اپوزیشن کھڑی کرنے میں مدد دے گی اور سیاسی میدان میں کسی اور بڑی اپوزیشن قوت کے لیے جگہ محدود ہو جائے گی۔
بعض مبصرین کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی کی سیاست اصولوں سے زیادہ اقتدار کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے خیال میں 1971 کی تاریخ یا نظریاتی وابستگی نیشنل سٹیزن پارٹی کی قیادت کے لیے زیادہ اہم نہیں، کیونکہ ان رہنماؤں نے وہ دور دیکھا ہی نہیں۔ ان کے فیصلے اس بات پر مبنی ہیں کہ کہاں انہیں بہتر سودے بازی اور زیادہ سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔

مجموعی طور پر جماعتِ اسلامی اور این سی پی کا یہ اتحاد نہ صرف بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی صف بندی کی علامت ہے بلکہ بھارت کے لیے بھی ایک سٹریٹجک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ اگر انڈیا مخالف بیانیے پر قائم یہ پرو پاکستان اتحاد فروری کے الیکشن کے نتیجے میں فیصلہ کن اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ دور میں داخل ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

Back to top button