مسائل مذاکرات سے ہی حل ہوتے ہیں : ایاز صادق

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کو ہی مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کچھ غلط ہوگیا تو اب اسے درست کیا جائے۔
18ویں اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ مسائل ہمیشہ بیٹھ کر اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوتےہیں،ضروری نہیں ہےکہ ہر مسئلہ حل ہوجائے یا ہر شرط مانی جائے،ہمیں ایک دوسرے کو عزت دینی ہے،اسی طرح ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم این ایز کے ساتھ ساتھ سابق اراکین کےلیے بھی ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں، ہمیں اپنے اداروں کو مستحکم بنانا ہے،ہمیں ماحول کو بہتر،ٹھنڈا رکھنا اور راستہ بنانا ہے،ہمیں مل جل کر تلخیوں کو کم کرناہوگا،مذاکرات،مذاکرات اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے مذاکرات کے حل سے ہی جمہوریت آگے بڑھےگی اور مستحکم ہوگی۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سب سے مشکل کام اسپیکرز کا ہوتا ہے،اگر حکومت کو وقت زیادہ ملےتو اپوزیشن ناراض،اگر اپوزیشن کو وقت زیادہ دے دیا جائے تو حکومت ناراض ہو جاتی ہے،اگلی نشستوں کو زیادہ وقت ملےتو بیک بینچرز ناراض ہوجاتے ہیں۔
سردار ایاز صادق نے کہاکہ پروڈکشن آرڈرز کا مسئلہ بھی بہت اہم ہوتا ہے،البتہ ایک بات طے ہےکہ اگر پہلےکچھ غلط ہوگیا تو اب اسے درست کیا جائے گا۔
ایاز صادق نے کہاکہ ایوان میں بیٹھےسب ہمارے کولیگز اور دوست ہیں، سیکریٹری قومی اسمبلی سے کہوں گاکہ رولز میں شامل کرلیں کہ ہر سال اسپیکرز کانفرنس ہو،یونیورسٹیز،کالجز اور اسٹوڈنٹس کےلیے بھی ٹریننگ ورکشاپس کا انعقاد ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ میری آنکھیں،کان اور سننے کی سکت اور کردار چیف وہیپس ہیں وزراء سے اہم کردار چیف وہیپس کا ہوتا ہے کیوں کہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کس کو وقت ملا کون نہیں بول سکتا،چیف وہیپس سے روزانہ کی ملاقات ہوتی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی،سینیٹ،تمام صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریز پر ایک ایسوسی ایشن بنانےکی تجویز دےدی،اسپیکر قومی اسمبلی نے چیف وہیپس ایسوسی ایشن بنانےکی بھی تجویز دےدی،چیف وہیپس میں سب سے نمایاں کردار سید خورشید شاہ کا رہاجو رول ماڈل ہیں۔
انہوں نےکہاکہ سید خورشید شاہ نے چیف وہیپ کےطور پر پورے ایوان کو جوڑے رکھا،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے،اس کو لازمی فعال ہونا چاہیے،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جو سفارشات آتی ہیں ان پر عملدرآمد کروا کر اربوں روپے ریکور کیے گئےہیں۔
ایاز صادق نےکہاکہ معلوم ہوا ہےکہ صوبائی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو سنجیدہ تک نہیں لیاجاتا،صوبے پی اے سی کو فعال اور مزید مضبوط بنائیں،اس سے شفافیت آئے گی،پبلک اکاؤنٹس کمیٹیز کی بھی ایسوسی ایشن بنائیں تاکہ آپس کا کوآرڈینیشن بہتر ہو۔
جمہوریت کا تسلسل ملکی ترقی کا ضامن ہے : اعظم نذیر تارڑ
ان کاکہنا تھاکہ کچھ وزارتیں صوبوں میں ہیں تو ان کی مرکز میں کیا ضرورت ہے،مرکز میں اس لیے ہیں کہ وہ پالیسیز بنائیں اور بہتری لائیں،بے روزگاری،معیشت اور موسمیاتی تبدیلی ہمارا مسئلہ ہے،ہمیں ہر تین سے چار ماہ بعد آپس میں بیٹھنےکی ضرورت ہے۔