پروفیسر وارث میر: ترقی پسند سوچ رکھنے والا نظریاتی دانشور

تحریر: حسن نقوی
معروف دانشور پروفیسر وارث میر کو پاکستانی صحافت میں ایک ایسے لکھاری کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو بصیرت کی انکھ سے دیوار کے اس پار دیکھنے کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے، چنانچہ جب انہیں یقین ہو گیا کہ پاکستان کو درپیش تمام مسائل کی بنیادی وجوہ آمریت اور ملائیت ہیں تو وہ ایک ایسے پرخطر مشن پر روانہ ہوئے جس کی تکمیل کے لیے انہوں نے جان کی بازی تک لگا دی۔
اپنے اس پر خطر سفر کے دوران وارث میر نے پاکستانی عوام کو اپنی تحریروں کے ذریعے آگاہ کیا کہ ملا ملٹری اتحاد اسلام اور پاکستان کا نام استعمال کرتے ہوئے سب سے زیادہ نقصان بھی اسلام اور پاکستان کو ہی پہنچا رہا ہے۔
پروفیسر وارث میر نے ہمیشہ سوال اٹھایا۔ کیا عورت آدھی ہے؟ کیا فوج کا سیاست میں کوئی کردار ہونا چاہیے؟ کیا مذہب کو قانون کا دروازہ بنا کر معاشرے کو انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے؟ یہ وہ سوالات تھے جنہیں ریاست نے دبانے کی کوشش کی، لیکن وارث میر نے اپنے قلم سے ان سوالات کو قوم کے ضمیر پر نقش کر دیا۔
ان کی پر مغز اور استدلال سے بھرپور تحریریں صرف تحقیقی مواد ہی نہیں بلکہ فکری مزاحمت کی آئینہ دار بھی ہیں۔ وہ نصابی نہیں، بلکہ انقلابی سوچ کے حامل ترقی پسند دانشور تھے جو کہ عوام کو ریاستی بیانیے کو پرکھنے پر مجبور کرتے تھے۔
علمی میدان میں ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ 1965 میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں تدریسی سفر کا آغاز کیا اور بعد ازاں چیئرمین کے منصب تک پہنچے۔ 1976 میں لندن یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے جب وہ وطن لوٹے تو صحافت کو ایک باوقار علمی شعبہ بنانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ان کی صحافتی اور علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے سول اعزاز ہلال پاکستان بعد از مرگ سے نوازا۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی حکومت نے پروفیسر وارث میر کو جنرل یحیی خان کے دور میں مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کے قتل عام کے خلاف آواز اٹھانے پر فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ بعد از مرگ سے نوازا۔
جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء ادوار میں ان کی لکھی گئی تحریروں میں طاقت کے مراکز پر تنقید کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف، آئینی بالادستی، اور فکری آزادی کا واضح اظہار ملتا ہے۔ ان مشکل ادوار میں وارث میر کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑتی تھیں بلکہ آمریت اور ملائیت کے خلاف مزاحمت کا جذبہ بھی عطا کرتی تھیں۔
مگر سچ بولنے والے لکھاریوں اور صحافیوں کو مملکت خداداد پاکستان میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ وارث میر کو بھی ذاتی سطح پر انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا خاندان تک محفوظ نہ رہا۔ لیکن انہوں نے اپنے ذہن و ضمیر پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
انکی وفات کو کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی آج یہ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا کیا اس ریاست میں صحافت ریاست کے ہاتھوں محفوظ ہے؟ اور کیا سچ بولنے والا واقعی وطن کا غدار ہوتا ہے؟ ان سوالات کا جواب جاننے کے لیے ہمیں وارث میر کی تحریروں کو پھر سے پڑھنا ہوگا، اور ان کے نظریات کو زندہ رکھنا ہوگا۔
پروفیسر وارث میر ایک عہد کا نام ہے۔ وہ صرف ایک استاد نہیں، وہ ایک نظریہ تھے لہذا جسمانی طور پر رخصت ہو جانے کے باوجود وہ اپنی فکر کی بدولت آج بھی زندہ ہیں۔
