پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران میں ڈیل کے امکانات روشن ہیں، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی سے مذاکرات میں پیشرفت جاری ہے، امریکا اور ایران میں ڈیل کے امکانات روشن ہیں۔
ایران کے حوالے سے سخت اور جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکان کو ترجیحی آپشن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق امریکہ نہ صرف ایران کے تیل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے بلکہ خارگ جزیرے جیسے اہم برآمدی مرکز پر بھی باآسانی قبضہ کیا جا سکتا ہے، جہاں بقول ان کے ایران کی دفاعی صلاحیت محدود ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جسے انہوں نے خطے میں بدلتی صورتحال کی ایک علامت قرار دیا۔
چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازعہ مذاکرات سےحل کرنے پر اتفاق
دوسری طرف امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے براہ راست فوجی کارروائی کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔ یہ ذخائر اصفہان اور نطنز بیوکلیئر تنصیبات جیسے حساس مقامات پر واقع ہیں، جہاں تک رسائی کے لیے امریکی افواج کو ممکنہ طور پر کئی دن ایرانی سرزمین پر قیام کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پس پردہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک معاہدے تک پہنچنے کی امید موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عسکری آپشن بھی زیر غور رکھا گیا ہے۔
