PSL کا آج سے آغاز، افتتاحی میچ میں اسلام آباد اور کوئٹہ مدمقابل

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فائیو کی افتتاحی تقریب آج نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سجے گی۔ پی ایس ایل کی کراچی میں ہونے والی پہلی افتتاحی تقریب کے لیے نیشنل اسٹیڈیم اور اطراف کو برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے اور شہر قائد کی سڑکوں پر جگہ جگہ پاکستانی پرچم اور ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کے پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ ایونٹ کا افتتاحی میچ آج دفاعی چیمپیئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور دو مرتبہ کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان کھیلا جائے گا۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہونے کی توقع ہے.
سیزن کے چوتھے ایڈیشن کے طویل انتظار کے بعد پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کی بالآخر مکمل طور پر پاکستان میں واپسی ہورہی ہے اور اس سال لیگ کے تمام 34 میچز ملک کے 4 شہروں میں کھیلے جائیں گے۔ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن کا انعقاد 2016 میں متحدہ عرب امارات میں کیا گیا تھا اور لیگ کی شاندار کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگلے ایڈیشن کے فائنل کے لاہور میں انعقاد کے ذریعے اسے پاکستان لانے کی تیاریاں کی گئی تھیں۔ ملک میں عالمی کرکٹ کی بحالی کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے اگلے ایڈیشن کے تین میچز کا پاکستان میں انعقاد کیا گیا اور کراچی میں فائنل منعقد کرایا گیا۔
اس کے بعد پی سی بی نے لیگ کو مکمل طور پر پاکستان لانے کو عملی شکل دینے کےلیے لیگ کے چوتھے ایڈیشن کے 8 میچز کا کامیابی کے ساتھ پاکستان میں انعقاد کیا جس سے غیر ملکی کھلاڑیوں کا بھی پاکستان میں سکیورٹی پر اعتماد بحال ہوا۔
چوتھے ایڈیشن کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے پانچویں ایڈیشن کو مکمل طور پر پاکستان میں منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے وزیراعظم کے خواب کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے پی ایس ایل 2020 کے مکمل طور پر پاکستان میں انعقاد کو یقینی بنایا۔
پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے مکمل طور پر ملک میں انعقاد سے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے اعتماد کو بحال اور بڑی ٹیموں کو دورہ پاکستان کےلیے آمادہ کرنے میں مدد ملے گی۔
لیگ کی ٹرافی کی تقریب رونمائی گزشتہ روز کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کی گئی جس میں ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ ساتھ مالکان نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی سی بی چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ پی ایس ایل پاکستان کا بڑا ایونٹ ہے اور ہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کرسکتا ہے۔
لیگ میں شرکت کےلیے تمام ٹیموں کے انٹرنیشنل کھلاڑی پاکستان پہنچ چکے ہیں اور آج نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی پُروقار افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔
نیشنل اسٹیڈیم کی فضائیں پاپ، راک، صوفی اور علاقائی موسیقی کی دھنوں میں رنگ جائیں گی جہاں راحت فتح علی خان، ابرار الحق، سجاد علی، صنم ماروی، آئمہ بیگ، ابو محمد، فرید ایاز اور سوچ بینڈ اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ تقریب میں 350 فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے اور پی ایس ایل کے آفیشل گانے میں سُر کا جادو جگانے والے چاروں گلوکار علی عظمت، عارف لوہار، عاصم اظہر اور ہارون بھی افتتاحی تقریب میں جلوہ گر ہوں گے۔
تقریب کے بعد لیگ کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپیئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔ دونوں ٹیمیں اب تک مجموعی طور پر لیگ کے 9 میچوں میں مدمقابل آچکی ہیں جہاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 5 اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے 4 میچوں میں کامیابی حاصل کی۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت لگاتار پانچویں سال سرفراز احمد کر رہے ہیں اور یہ ایڈیشن ان کے لیے اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پی ایس ایل کھیلتے ہوئے وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس ایڈیشن میں کارکردگی سرفراز کے کیریئر کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیوں کہ اس ایڈیشن میں عمدہ کارکردگی کی بدولت وہ رواں سال آسٹریلیا میں شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ کےلیے قومی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد یونائیٹڈ نے شاداب خان کو قیادت کے منصب پر فائز کیا ہے اور وہ کیریئر میں پہلی مرتبہ پورے ٹورنامنٹ میں قیادت کے فرائض انجام دیں گے۔
دونوں ٹیموں پر ایک نظر دوڑائی جائے تو دونوں ہی ٹیمیں انتہائی مضبوط اور مقامی و بین الاقوامی کھلاڑیوں کا حسین امتزاج نظر آتی ہیں۔ دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو کپتان سرفراز کے ساتھ ساتھ شین واٹسن، جیسن روئے، احمد شہزاد، عمر اکمل، محمد نواز، بین کٹنگ، نسیم شاہ، محمد حسنین اور ٹائمل ملز جیسے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کپتان شاداب خان سمیت کولن انگرام، فلپ سالٹ، ڈیوڈ ملان، آصف علی، لیوک رونکی، ڈیل اسٹین، فہیم اشرف اور عماد بٹ جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔
میچ کےلیے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کی بدولت یہ ایک خوبصورت منظر پیش کر رہا ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم کی وکٹ کو بیٹنگ کےلیے سازگار قرار دیا جا رہا ہے اور میچ میں بڑے اسکور کے ساتھ ساتھ چھکے چوکوں کی برسات ہونے کی توقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button