پی ایس ایل ٹیم ملتان سلطان 2 ارب سے زائد میں بکنے کا امکان

 

 

 

پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم ملتان سلطانز کی دوبارہ فروخت سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے خزانے میں 2 ارب روپے سے زائد رقم آنے کا روشن امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی نیلامی سے قبل غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق کم از کم تین پارٹیاں ایسی ہیں جو ملتان سلطانز کو خریدنے کے لیے ایک ارب 25 کروڑ سے لے کر 2 ارب روپے تک سالانہ فیس دینے پر آمادہ ہیں۔

 

دوسری جانب سابق مالک علی ترین نے بھی ٹیم واپس خریدنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم جب ماضی میں ایک ارب 35 کروڑ روپے کی ویلیوایشن پر بھی وہ فرنچائز حاصل نہ کر سکے تو اب متوقع کہیں زیادہ قیمت پر ان کے لیے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ ماہ پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی فروخت نے فرنچائز مارکیٹ کی سمت ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ حیدرآباد کی ٹیم ایک ارب 75 کروڑ جبکہ سیالکوٹ کی ٹیم ایک ارب 85 کروڑ روپے سالانہ فیس پر فروخت ہوئی، جس کے بعد ملتان سلطانز کی متوقع قیمت 2 ارب روپے یا اس سے بھی زائد تک جا پہنچی ہے۔

 

ٹیم ملتان سلطان کی بولی ممکنہ طور پر فروری کے دوسرے ہفتے میں لاہور میں منعقد ہوگی جس کے فوری بعد ٹورنامنٹ شروع ہو جانا ہے لہذا اس مرتبہ یہ فرنچائز نئے مالکان کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ بھی ملتان سلطانز کو خریدنے کے لیے ملکی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی خریدار بھی میدان میں آ چکے ہیں۔ نیلامی سے قبل کم از کم تین پارٹیاں ایسی ہیں جو ایک ارب 75 کروڑ سے 2 ارب روپے کے درمیان بولی لگانے کے لیے تیار ہیں، جس سے امکان ہے کہ ملتان سلطانز پی ایس ایل کی سب سے مہنگی فرنچائزز میں شامل ہو جائے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ دو ٹیموں یعنی سیالکوٹ اور حیدر آباد کی فروخت کے وقت بھی نیلامی میں دو پارٹیاں ایسی تھیں جنہوں نے ایک ارب 60 کروڑ سے ایک ارب 70 کروڑ روپے کے درمیان بولیاں لگائی تھیں، تاہم حتمی طور پر ٹیمیں ایک ارب 75 کروڑ اور ایک ارب 85 کروڑ روپے کی بولی دینے والوں نے حاصل کر لی تھیں۔ لہذا امکان ہے کہ ملتان سلطانز کی نیلامی میں بھی ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ قیمت سامنے آ سکتی ہے۔

 

یاد رہے کہ پی ایس ایل ٹیموں کی 10 سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد نئی بولی کے عمل سے قبل ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین کی جانب سے کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل انتظامیہ کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس مہم کا مقصد فرنچائز کی ویلیوایشن کم کروانا تھا تاکہ ٹیم نسبتاً کم قیمت پر دوبارہ حاصل کی جا سکے۔ تاہم جب ملتان سلطانز کی مجوزہ سالانہ فیس ایک ارب 35 کروڑ روپے سامنے آئی تو علی ترین نے یہ رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا، جسے ذرائع ان کی قوتِ خرید سے باہر قرار دیتے ہیں۔

 

اسی بنا پر 10 سالہ معاہدے کے اختتام پر ملتان سلطانز کے فرنچائز معاہدے میں توسیع نہیں کی گئی تھی۔ ابتدا میں پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ رواں برس پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں ملتان سلطانز کے معاملات خود چلائے جائیں گے، تاہم دو نئی ٹیموں کی غیر معمولی قیمت پر فروخت کے بعد بورڈ نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ملتان سلطانز کو بھی نیلامی میں پیش کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔

پی سی بی کی جانب سے ملتان سلطانز کی فروخت کے لیے باضابطہ اشتہار جاری کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیلامی میں دلچسپی توقعات سے کہیں زیادہ ہے اور کئی بڑی کمپنیاں مالی بولی کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔

 

ملتان سلطانز کے سابق مالکان نے دو نئی ٹیموں کی بڈنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔ پی سی بی نے ان سے واجبات فوری طور پر جمع کرانے کا مطالبہ کیا، بصورت دیگر ڈس کوالیفائی کرنے کا عندیہ دیا گیا، جس پر انہوں نے فوری طور پر رقم ادا کر دی۔ اس دوران سابق مالکان بشمول علی ترین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا وہ دیے گئے ناموں کے علاوہ کسی اور نام سے ٹیم خرید سکتے ہیں۔ پی سی بی نے واضح کیا کہ ایک ملین ڈالرز فیس ادا کرنے اور بورڈ کی منظوری کے بعد ایسا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم حیران کن طور پر بڈنگ سے چند منٹ قبل ہی موصوف نے نیلامی سے دستبرداری اختیار کر لی۔

 علی ترین پھر پی ایس یل میں ملتان کی ٹیم خریدنے کے خواہشمند

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں علی ترین نے پی سی بی چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ویلیوایشن کے بعد سامنے آنے والی ایک ارب 35 کروڑ روپے سالانہ فیس پر ٹیم انہیں واپس دے دی جائے، کیونکہ ان کے بقول یہ ٹیم ان کی تھی اور وہ اس پر حق رکھتے ہیں۔ تاہم چیئرمین پی سی بی نے نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ فرنچائز کی ملکیت ختم ہو چکی ہے اور اب ٹیم صرف اوپن نیلامی کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس جواب پر سابق مالک ناراض ہو گئے اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ ٹویٹ کر دی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ بھلا ان کی بیوی کا دوسرا نکاح کیسے پڑھایا جا سکتا ہے۔

Back to top button