PTIٹکٹ سے محروم رہ جانے والے عمرانڈو رہنما کون؟

پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر میں قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری کردئیے ہیں تاہم ٹکٹوں کی جاری فہرست میں تاحال پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام شامل نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے کل 266 حلقوں میں سے 231 حلقوں میں ٹکٹ جاری کئےہیں جبکہ 35 نشستوں پر ابھی ٹکٹ جاری نہیں ہو سکے۔

تحریک انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے ٹکٹوں میں پرانے چہرے، وکلا اور دیرینہ کارکنان بھی امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ہیں تاہم کچھ ایسے نامور رہنما بھی ہیں جنہیں ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم رہنے والا بڑا نام زلفی بخاری ہے جنہیں تحریک انصاف نے اٹک سے ٹکٹ جاری نہیں کیا اور ان کے مقابلے میں میجر طاہر صادق کی بیٹی ایمان طاہر کو ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے۔خیال رہے کہ زلفی بخاری کا شمار عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ہونے کی وجہ انہیں ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئی ٹکٹ سے محروم رہنے والوں میں دوسرا بڑا نام وکیل رہنما ڈاکٹر بابر اعوان کا ہے جنہوں نے اسلام آباد کے 2 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے تاہم تحریک انصاف نے ان پر وکیل رہنما شعیب شاہین اور دوسرے حلقے سے دیرینہ کارکن عامر مغل کو ترجیح دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 9 مئی واقعے کے بعد ڈاکٹر بابر اعوان لندن روانہ ہوگئے تھے جس کے بعد پارٹی میں ان کی جگہ دیگر وکیل رہنماؤں نے لے لی ہے۔

تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت میں وفاقی وزیر رہنے والے شفقت محمود کو بھی تحریک انصاف نے ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ ان کے مقابلے میں لاہور سے ڈاکٹر یاسمین راشد میدان میں اتریں گی۔ شفقت محمود 9 مئی واقعے کے بعد خاموشی اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے ٹکٹ نہ ملنے کے بعد کاغذات نامزدگی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

جمشید چیمہ اور ان کی اہلیہ مسرت جمیشد چیمہ نے بھی ٹکٹ نہ ملنے کے بعد کاغذات نامزدگی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ مسرت جمشید چیمہ پنجاب حکومت کی ترجمان رہ چکی ہیں تاہم 9 مئی واقعے کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے پارٹی عہدے چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے انھیں ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔

تحریک انصاف حکومت میں معاشی امور کے ترجمان مزمل اسلم کو بھی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کراچی کے حلقے این اے 241 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے تاہم ٹکٹوں کے اعلان کے بعد انہوں نے کاغذات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان کے لیگل امور پر ترجمان رہنے والے نعیم حیدر پنجوتھہ کے ٹکٹس پر تاحال فیصلہ نہییں ہوسکا ہے۔ وہ قومی اور 2 صوبائی اسمبلی سے کاغذات نامزدگی جمع کروا چکے ہیں۔ لاہور سے تحریک انصاف کے وکیل رہنما علی اعجاز بٹر کو بھی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔

تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور ان کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کے کاغذات مسترد ہونے کے باعث انہیں بھی ٹکٹ جاری نہیں کیے گئے۔جہلم میں سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری کو بھی تحریک انصاف نے ٹکٹ جاری نہیں کیا۔

جیال رہے کہ نو مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اور پارٹی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے پارٹی رہنماؤں کو ٹکٹوں سے محروم رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب راولپنڈی میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کی گئی اور ان کے مقابلے این اے 56 میں شہریار ریاض جبکہ این اے 57 میں سیمابیہ طاہر کو کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو بھی پی ٹی آئی نے ٹکٹ نہیں دیا، وہ 2018 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر این اے 60 راولپنڈی کے ضمنی الیکشن میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

دوسری طرف پی ٹی آئی نے بالخصوص پنجاب سے کئی حلقے خالی چھوڑ دیے ہیںلاہور میں این اے 117 میں علیم خان کے حلقے سے بھی کسی امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔لاہور میں این اے 119 اور 120 کے اہم حلقے بھی خالی چھوڑے گئے ہیں۔ این اے 117 بھی خالی ہے۔گجرات میں این اے 65 کا حلقہ خالی چھوڑا گیا ہے۔ اسی طرح منڈی بہا الدین، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، چنیوٹ، فیصل آباد کے حلقے خالی چھوڑے گئے ہیں۔قصور سے بھی دو حلقے خالی چھوڑ دیئے گئے۔ پاکپتن اور ساہیوال کا ایک ایک حلقہ خالی چھوڑ دیا گیا۔

Back to top button