PTI ” عمران نہیں تو پاکستان نہیں” کا نعرہ کیوں لگا رہی ہے؟

۔سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے کہ بدقسمتی سے عمران کی جماعت اور اسکے سوشل میڈیا ہینڈلرز افہام و تفہیم سے دور ہو چکے ہیں۔ وہ عمران خان کا نور بصیرت ’’ میں نہیں تو پاکستان نہیں‘‘ عام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ’’مائنس عمران خان ، NO پاکستان‘‘ اپنی ترجیح بنا رکھی ہے ۔ اگر 8 فروری کو الیکشن ہو پائے تو بھی عمران خان کے ٹائیگرز کیلئے مقام حاصل کرنے کی گنجائش محدود ہے ۔
اپنے ایک کالم میں حفیظ اللّہ نیازی لکھتے ہیں کہ اگرچہ گوہر علی خان کی تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر آ چکی ہے پھر بھی خدشہ ہے کہ الیکشن کے نتائج کچھ بھی ھوئے ، حالات کا بے قابو ہونا یقینی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت ووٹوں کیلئے ناکافی ہے ، ان کے دشمن قوتوں کی مدد افراتفری پھیلانے کیلئے وافر مقدار میں موجود ہے ۔ عمران نے مقبولیت کے زعم میں 2 لانگ مارچ کر ڈالے ، 9 مئی کے دن فوجی تنصیبات پر ملک کے طول عرض میں حملہ آور ہوا ،کھویا ہوا اقتدار حاصل کرنے کیلئے کئی ہنر آزماڈالے ۔ ہرکوشش تضحیک آمیز ناکامی سے دوچار رہی۔ اس ضمن میں دو مثالیں مقبولیت کا بھانڈا پھوڑنے کیلئے کافی ہیں ۔ 25مئی اور 26نومبر 2022 کے دونوں مواقع پر بقول عمران لاکھوں کا سمندر متوقع تھا ، انہوں نے حلف بھی لیے ، بالآخر چند ہزار پر اکتفا کرنا پڑا ۔ عمران خان کو بخوبی معلوم ہو گیا تھا کہ دباؤ میں لانے کیلئے خاطر خواہ سپورٹ موجود نہیں ہے۔ تب سے عمران خان نے ٹھانی ھوئی ھے کہ اسٹیبلشمنٹ سے بدلہ لینے کا حتمی طریقہ پاکستان کوغیر مستحکم کرنا ہے۔
حفیظ اللّہ نیازی بتاتے ہیں کہ آج کی مصیبت کی اصل ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہے جس نے محنت مشقت سے مملکت کواس حال تک پہنچایا ہے ۔ عمران خان جیسے کردار اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق ہیں جو ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوئے ۔ جنرل باجوہ کابڑا جرم یہ ہے کہ اپریل 2022 میں عمران خان کا مکو ٹھپنا’’ شرعا‘‘ جائز تھا اور عین ممکن بھی ۔ مگر اس نے عمران کو توانا رکھنے کی ٹھانی کہ دباؤ ڈال کر شہباز حکومت کو گھر بھیجا جاسکے یا توسیع کیلئے استعمال کیا جائے ۔ لانگ مارچ ، جلسے جلوس ، ارشد شریف قتل ، عمران خان پر قاتلانہ حملہ ، سب ایک ہی سلسلے کی کڑی تھے جس کا مقصد شہباز حکومت کو گرانا تھا مگر یہ سب کوششیں عمران خان کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں ۔ مضحکہ خیز بات تو یہ بھی ہے کہ 10 اپریل سے’’ بلے‘‘ کے نشان کی واپسی تک ، جتنے تادیبی اقدامات کئے گئے ان سے عمران کا سیاسی اثرو رسوخ مزید بڑھا ۔ جتنی تدابیر کیں الٹی پڑیں ۔ آج عمران کا جیل میں رہنا فائدے کا سودا ہے۔ بالفرض محال ، 8 فروری کو الیکشن ہو بھی گئے، تو خدشہ ھے کہ نتائج منصوبہ بندی کے برعکس نکلیں گے ۔ ہاتھ ملنے کا وقت بھی نہیں ہوگا ۔نواز شریف کا وزیراعظم بننے اور انتخابی مہم چلانے میں تذبذب سمجھ میں آتا ہے۔ الیکشن میں ہار جیت یا الیکشن نہ ہونے کی صورت میں عمران خان اسٹیبلشمنٹ کا کمزور ہونا دیکھ رہے ہیں۔ایسا خواب شاید پاکستان دشمن ممالک کے وارے میں تو ہو ، محب الوطن پاکستانی کیلئے قیامت کا منظر ہے ۔
حفیظ اللّہ خان نیازی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی بجائے افہام و تفہیم کے ہنر آزمائےگئے تو پاکستان کی صورت گری ہو پائے گی ، اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ میں تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ۔ سوال یہ ھے کہ کیا موجودہ صورتحال میں جمہوریت کے نام پر پاکستان توڑنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ ہر گز نہیں ۔ اگر پاکستان نہ رہا یا کمزور ہوا تو اس بار بنگلہ دیش ماڈل نہیں ، کشمیر یا حیدرآباد ( دکن ) ماڈل سامنے ہوگا ۔ پاکستان قائم رہا ، آج نہیں تو کل اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑا لی جائے گی ۔ ترکیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ 107 سال پہلے فوج نے ترکی کو آزاد کروایا اور پھر 80 سال تک ترک فوج ملک کے سیاہ و سپید کی مالک رہی کہ ترکیہ کے آئین میں فوج نے اپنا مضبوط مقام درج کر رکھا تھا ۔ پھر طیب اردوان جیسا دیدہ ور قائد نصیب بنا ۔ افہام و تفہیم ، معاملہ فہمی کیساتھ بغیر ٹکراؤ کے اسٹیبلشمنٹ کے چنگل سے نظامِ ترکی کو آزاد کرایا ۔ ترکی کو بامِ عروج سے متعارف کرایا۔ آج ترکیہ دنیا کے 20 بڑے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جبکہ 2002 میں ترکیہ کے حالات پاکستان سے بھی بد تر تھے۔

Back to top button